|
|
|
|
|
1st Safarul Muzaffer 1436 | Tuesday, Nov 25, 2014
Aap ke sawal

sj1_31

Saturday, 30 July 2011
 Print  Pdf
Comments(96)
Saturday, 30 July 2011
 Print  Pdf

YEH BLOG QADIYANIYON AUR MULHIDEEN KE LIYE NEMAT!!!

ASSALAMU ALAIKUM VO RAHMATULLAHI WO BARKATAHU

QARAYEENE KARAM VO AHBAABE SIASAT

(1)NEMAT ISLIYE KE YAHAN MUNH CHHUPAKAR APNE JHOOTE PROPAGANDE KO PHAILANE KI SAHULAT MAISER HAI

(2)YEH PUBLIC MEIN APNE HIDDEN AGENDE KO PESH NAHI KARSAKTE!

(3)YEH PUBLIC MEIN APNE HIDDEN AGENDE KO PESH KARENGE TO INKE SER PER ITNE JOOTE PADENGE KE INKI NASLEN GANJI PAIDA HOGI

(4)AGAR YEH HAQUE PER HOTE TO PUBLIC MEIN JALSE KARKE BARSARE AAM APNI TAHREEK BAYAN KARTE?

(5)JIS TARHA AHLE SUNNAT BA BANGE DAHEL AHLE SUNNATWAL JAMAT KE AQAIYED BAYAN KARTE HAIN JALSON MEIN

(6)YEH CHHUP CHHUPKER YAA TO KITABEN LIKHKAR FREE MEIN TAQSEEM KARADETE HAIN!---YAA PRE RECORDED TAQREER YOU-TUBE PER POST KARDETE HAIN

(7)YEH COMMERCIALLY PAID REPRESENTATIVES HAIN SAARA MEDIA JAANTA HAI

(8)INKO BAQAYEDA SALARIES DI JAATI HAIN INKO LATEST TECHNOLOGY MUHYA KI JAATI HAI!- WHY DID THEY NOT USE THEIR OWN MEANS OF PROPOGATION?????

(9)YAHAN CHHUP CHHUPKAR MUSALMANO KA BRAIN WASH KARTE HAIN KE RISALAT MAB(SAW) KI SHAAN MEIN GUSTAQI KARO!-----AULIA E KARAM KO BURA BHALA KAHO!

(10)QARAYEENE KARAM YAHIN PER DEKHIYE MISAAL AAPKE SAMNE HAI----EK NASLE HARAM KAI DINO SE----- NABI KAREEM SALLALAHU ALAIHI WASSALAM KO IMAME AZAM KAHTA HAI TAAKE “SALLALLAHU ALAIHI WASSALAM” KAHNE KI NAUBAT HI NA AAIYE!
KYA SAHABAIYE KARAM(RTZA) AAISA MUKHATIB KARTE THEA????
SAHABAIYEKARAM TO “YAA RASOOLLALLAH AAP PER HAMARI JAAN, MAAL, AULAD QURBAN” ----“YAA RASOOLLALLAH AAP PER HAMARE MAA BAAP QURBAN”

AB YEH DEEN MEIN “TAJDEED” KARNA CHAHTA HAIN INKE PAAS EK AUR MIRZA GHULAM AHMED QADIYANI AANE WAALA HAI ???????

ALLAH HUM SOB MUSALMANO KO DAJJALON KE FITNE SE MAHFUZ RAKHE AUR DEENE MOHAMMEDI(SAW) PER QAYEM RAKHE (AMIN)

naam kis ka chupa huwa haye!!!!!

As salaam alaikum
1. Qarayeen ko achchi tarah maloom haye kay is blog per kis ka naam chupa huwa haye....ar...(al ain tuo maqaam ka naam haye)....agar aap naam chupa kar ya munh chupa kar likhnay waloun mein nahin hain tuo ayenda apnay pooray naam say ba-bang e dhal likha karein.
2. Deen e islaam ki tajdeed (revival) hota raha haye...aur aaj phir is ki zaroorat haye........aap yeh tuo jantay hi hongay kay kaha jaata haye...Karbala mein Hazrat Hussain RA ki shahadat say Islaam zinda huwa.........aur yeh bhi jantay hongay kay....deen e tasawwuf kay bani...ibn arabi ko MOHIUDDIN kehtay hain .....aur haan Shaikh Abdul Qadar Jeelani ra ko bhi MOHIUDDIN kehtay hain......aur yeh har musalmaan ka emaan haye kay Hazrat Esa alaihissalaam bhi deen e islaam ki tajdeed kay liye aayengay....is liye mayein nay kaha tha kay islaam ki tajdeed hona hi haye......
3. aap ka yeh murasela aap kay ignorance ko zaher kar raha haye....aur aap kay jhoot ko bhi....kyoun kay yehan munh chupa kar likhnay waloun mein EK AAP HI HO.

Ignorance is killing!!!!

As salaam alaikum
Other than those stupid brainwashed terrorists, if anything else is crippling Islam from inside, than that would be IGNORANCE!!!!, lack of knowledge!!!!.
So brothers make habit of reading Quran and other books too, to make yourself at paar from others, and to become a model for other communities.
Obey Allah swt and Rasool Allah pbuh.

Kozay mein Samandar

Mashallah.
Issi ko kahetay hein 'Samandar ko Kozay mein band karna'.
Hamara mein issue hi JAHEL hai.
Aur issi Jaheliyat ko 'Encash' kiya jata hai. (Demand and Supply)
Aur yeh 'Kuttaon aur Kawvaon" ki kahaniya ussi waqt band hongi jab Ilim ayega..........Noor aye ga. Allah ham sab ko hidayat day. Ameen.

جنگ میں فتح کے لئے موئے مبارک کا توسل

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

الحمد ﷲ رب العالمين و الصلاة و السلام علی سيد المرسلين أما بعد

یہ حقیقت ہے کہ انبیاء و صالحین سے منسوب چیزیں بڑی با برکت اور فیض رساں ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار کو بطورِ تبرک محفوظ رکھنا اور ان سے برکت حاصل کرنا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معمول تھا۔ آج بھی اہلِ محبت ان تبرکاتِ مقدسہ کو حصولِ فیض و برکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان کی حرمت کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

جنگ میں فتح کے لئے موئے مبارک کا توسل

حضرت صفیہ بنت نجدہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند موئے مبارک تھے۔ ایک دفعہ وہ ٹوپی کسی جہاد میں گرپڑی تواس کے لینے کیلئے تیزی سے دوڑے جبکہ اس معرکے میں بکثرت صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے، اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

’’میں نے صرف ٹوپی کے حاصل کرنے کیلئے اتنی تگ و دو نہیں کی تھی بلکہ اس لئے کہ اس ٹوپی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک تھے مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس کی برکت سے محروم نہ ہو جاؤں اور دوسرا یہ کہ یہ کفار و مشرکین کے ہاتھ نہ لگ جائے۔‘‘

قاضی عياض، الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ، 2 : 619

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو موئے مبارک میں جو برکت دکھائی دیتی تھی وہ اہل عقول کی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ وہ کیا چیز ہے حسی یا معنوی جو بالوں کے اندر رہتی ہے یا سطح بالائی پر وہ چاہے کتنی ہی موشگافیاں کریں ان کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس روایت سے سب مشکلات حل ہوگئیں اور معلوم ہوگیا کہ مشکل سے مشکل کاموں میں آسانی اور امداد غیبی کا مل جانا اس برکت کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے فتح موئے مبارک کی برکت سے حاصل ہوتی تھی۔
عبدالحمید بن جعفر سے روایت ہے کہ یرموک کی لڑائی میں یہ ٹوپی سر سے غائب تھی جب تک وہ نہیں ملی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نہایت الجھن میں رہے اور ملنے کے بعد اطمینان ہوا۔اس وقت آپ نے یہ ماجرا بیان فرمایا کہ :
فما وجهت فی وجه الا فتح لی.
’’میں نے جدھر بھی رخ کیا اس موئے مبارک کی برکت سے فتح حاصل کی۔‘‘

ابو يعلی، المسند، 13 : 138، رقم : 7183
عسقلانی، الا صابه فی تمییز الصحابه، 1 : 414
واقدی، المغازی، 2 : 884

اسی طرح تاریخ واقدی میں یہ واقعہ درج ہے کہ جنگ یرموک کے ایک معرکے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ایک نسطور نامی پہلوان سے ہوا۔ یہ مقابلہ دیر تک رہا، اچانک حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا اور آپ کی ٹوپی زمین پر گرگئی۔ آپ ٹوپی اٹھانے میں لگ گئے اور اتنے میں وہ پہلوان آپ کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ آپ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ میری ٹوپی مجھے واپس دلادو۔ ٹوپی آپ کو دی گئی جسے پہن کر آپ رضی اللہ عنہ نسطور پر غالب آگئے اور اس کا کام تمام کر دیا۔ بعد میں لوگوں نے کہا آپ نے یہ کیا حرکت کی اور ایک ٹوپی کی خاطر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال لیا۔ آپ نے بتایا کہ وہ ٹوپی معمولی ٹوپی نہ تھی کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک سلے ہوئے تھے۔

پسینہ مبارک سے حصولِ برکت
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر سے ہمیشہ پاکیزہ خوشبو آتی تھی، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اس خوشبو کو مشک و عنبر اور پھول کی خوشبو سے بڑھ کر پایا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اپنے لئے، اپنے بچوں کے لئے، اور شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹیوں کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کو حاصل کرتے، اس سے برکت کی امید رکھتے اور بڑے اہتمام کے ساتھ اس متاعِ عزیز کو سنبھال کر رکھتے۔

حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اﷲ عنھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک گدا بچھایا کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں اسی گدے پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کا) بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑے ہوتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک اور موئے مبارک کو ایک شیشی میں جمع کرتیں پھر ان کو خوشبو کے برتن میں ڈال دیتیں۔
حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت فرمائی کہ ان کے حنوط(٭) میں اس خوشبو کو ملایا جائے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے حنوط میں وہ خوشبو ملائی گئی۔‘‘
حنوط : وہ خوشبو جو کافور اور صندل ملا کر میت اور کفن کے لئے تیار کی جاتی ہے۔

بخاری، الصحيح، 5 : 2316، کتاب الاستئذان، رقم : 5925
شوکانی، نيل الاوطار، 1 : 69

2۔ حضرت حمید سے روایت ہے کہ :
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو ان کے حنوط میں ایسی خوشبو ملائی گئی جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کی خوشبو تھی۔‘‘

طبراني، المعجم الکبير، 1 : 249، رقم : 715
بيهقي، السنن الکبري، 3 : 406، رقم : 6500
هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 21 (امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں)

3۔ اسی طرح دوسری روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور میری والدہ ایک شیشی لیکر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
يا أم سليم! ما هذا الذي تصنعين؟ قالت : هذا عرقک نجعله في طِيبِنا و هو مِن أطيب الطيب.
’’اے ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔‘‘

4۔ ایک اور روایت میں حضرت ام سلیم رضی اﷲ عنہا نے پسینہ مبارک جمع کرنے کی وجہ برکت کا حصول بتایا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :
ما تصنعين يا ام سليم؟ فقالت : يا رسول اﷲ! نرجو برکته لصبياننا. قال : أصبت.
’’اے ام سلیم! تم کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اﷲ! ہم اس میں اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہاری امید درست ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2331
احمد بن حنبل، المسند : 3 : 226، رقم : 13390
بيهقي، السنن الکبریٰ، 1 : 254، رقم : 1130
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 72

فضیلتِ نماز رمضان کے روزے

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

فضیلتِ نماز کا بیان رمضان کے روزے

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نمازی کے لئے تین خصلتیں ہیں : (ایک) یہ کہ اس کے دونوں قدموں سے لے کر سر تک رحمتِ الٰہی نازل ہوتی رہتی ہے اور دوسرا یہ کہ ملائکہ اسے اس کے دونوں قدموں سے لے کر آسمان تک گھیرے ہوئے رہتے ہیں اور (تیسرا) یہ کہ ندا کرنے والا ندا کرتا رہتا ہے کہ اگر مناجات کرنے والا (یعنی نماز پڑھنے والا) یہ جان لیتا کہ وہ کس سے راز و نیاز کی باتیں کر رہا ہے تو وہ نماز سے کبھی واپس نہ پلٹتا۔‘‘

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 1 / 49، الرقم : 150، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1 / 199، الرقم : 160، والمناوي في فيض القدير، 5 / 292.

’’حضرت ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے گناہ اس کے سر پر دھرے رہتے ہیں پس جس وقت وہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ جھڑتے چلے جاتے ہیں اور جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ اس کے تمام گناہ اس سے جھڑ چکے ہوتے ہیں۔‘‘

أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2 / 272، الرقم : 1153، وفي المعجم الکبير، 6 / 250، الرقم : 6125، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 145، الرقم : 3144، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 145، الرقم : 533، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 14 / 313، الرقم : 7634، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 300.

’’حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی اولاد کو جب وہ سات سال کے ہو جائیں تو نماز کا حکم کیا کرو اور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو نماز کی پابندی نہ کرنے پر انہیں مارا کرو اور ان کے سونے کی جگہ الگ الگ کر دو۔‘‘
’’اور ایک روایت میں عبدالمالک بن ربیع بن سبرہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سات سال کے بچے کو نماز سکھاؤ اور دس سال کے بچے کو نماز (نہ پڑھنے) پر سزا دو۔‘‘

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء متي يؤمر الصبي بالصلاة، 2 / 259، الرقم : 407، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : متي يؤمر الغلام بالصلاة، 1 / 133، الرقم : 494.495، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 187، والحاکم في المستدرک، 1 / 311، الرقم : 708، والدارقطني في السنن، 1 / 230، الرقم : 1.3، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 102، الرقم : 1002، والدارمي في السن، 1 / 393، الرقم : 1431، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 228. 229، الرقم : 3050 - 3052، وفي شعب الإيمان، 6 / 398، الرقم : 8650، والطبراني في المعجم الکبير، 7 / 115، الرقم : 6546.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔‘‘
اور طبرانی کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو (زنجیروں میں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟‘‘

أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر الاختلاف علي معمر فيه، 4 / 142، الرقم : 2106، وفي السنن الکبري، 2 / 66، الرقم : 2416، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 270، الرقم : 8867، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 323، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 60، الرقم : 1492، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 143.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزہ ڈھال ہے اور دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لئے محفوظ قلعہ ہے۔‘‘
’’اور ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزہ ڈھال ہے اس کے ساتھ بندہ خود کو دوزخ کی آگ سے بچاتا ہے۔‘‘

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 396، الرقم : 15299، والبزار عن ابن أبي الوقاص رضي الله عنه، 6 / 309، الرقم : 2321، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 58، الرقم : 8386، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 294، الرقم : 3582، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 50، الرقم : 1452، وقال : إسناد حسن، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 271، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 180، وقال : رواه أحمد وإسناده حسن.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی تو کھلایا اور پلایا ہے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصوم، باب : الصائم إذا أکل أو شرب ناسيا، 2 / 682، الرقم : 1831، وفي کتاب : الأيمان والنذور، باب : إذا حنث ناسيا في الأيمان، 6 / 2455، الرقم : 6292، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصيام، باب : أکل الناسي وشربه وجماعة لا يفطر، 2 / 809، الرقم : 1155، وابن ماجه في السنن، کتاب : الصيام، باب : ماجاء فيمن أفطر ناسيا، 1 / 535، الرقم : 1673، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 425، الرقم : 9485، والنسائي في السنن الکبري، 2 / 244، الرقم : 3275.

RAZVI SAHAB ALLAH AAPKO

RAZVI SAHAB ALLAH AAPKO SALAMAT RAKHE RAMZAN KA MAZA DOBALA KARDIYA AAPNE JAZAK ALLAH KHAIR

Is blog per......Mufti Khaleel Ahmed sahab say guzarish..

As salaam alaikum
Is blog per deen e islaam (monotheism/tauheed) ki tableegh nahin ho rahi haye balkay deen e tasawwuf aur deen e brailvi ki tableegh zor shor say jaari haye....jo kuch nahin balkay ANIMISM haye...rooh ki pooja, rooh say istemdaad, rooh ki moujoodgi ka ehsaas waghaira......
is liye bahut say ahbbab Jin buzurgaan e deen ki baat kar rahay hain woh dar asal buzurgaan e deen e tasawwuf hain.......jis mein khaliq w maqlooq mein koi farq nahin, jis ka kalma alagh, jis mein kashf kay naam par jadoo, animism yani roohoun ki ibadat (qabr parasti), infallibility of certain persons.....aur kayi aisay aqeeday hain jin ka DEEN E ISLAAM say door ka bhi taluq nahin. Ahbaab ki ittel'a kay liye 200 saal pehlay deen e tasawwuf ko khatm karkay deen e islaam ki dobara tajdeed ki koshish ki gayi...jo bahut hadd tak kamiyaab koshish rahi.........agar aap ko deen e tasawwuf say kinarakashi nahin karna ho to na karein ....magar deen e tasawwuf (theosophyy) ko lillah ISLAAM ka naam na dein. Lihaza jin buzurgoun ki tableegh ki aap baat kar rahay ho, unhoun nay islaam nahin balkay tasawwuf ki tableegh ki haye.....ab 200 saal say jo tableegh ho rahi haye woh quran aur sunnat kay mutabiq islaam ka revival ho raha haye......aao dosto khalis deen e islaam mein dakhil ho jao....aur qabarparsti ko farogh denay walay buzurgaan e deen e tasawwuf say kiinarakashi karlo.
Ek aur baat yehan chal rahi haye, jab bhi in buzurgaan e deen e tasawwuf kay murredoun say koi jawaab nahin ban padta....ya apnay kiye per jab sharminda ho jatay hain tuo frustration kay maray logoun ko galiyaan baktay hain aur un kay nasab ko check karnay ki baat hoti haye......yeh bhi un ki KAM-AQALI hi samjhiye.....kyounkay har aadmi aulaad e ADAM pbuh honay ki wajah say musharraf aur najeeb haye.....aur tamaam musalmaan khas kar ADAM pbuh kay sulb say haye....Allah swt Adam pbuh kay sulbi silsilay mein islaam ko baaqi rakhay huway haye.......
Is muamilay mein aam musalmaan is blog ko bhi shak ki nazar say dekhtay hain kyoun kay is blog mein TAUHEED aur SUNNAT par likhnay waloun ko jab galiyaan baki jati hain tuo is blog kay mudeeraan us ko bhi chaap detay hain, un per koi rok nahin lagatay.......shayed musalmanoun ki aapasi khalfishaar say luft andoz hona aadat ban gayi haye.
Is blog kay mudeer mufti KHALEEL AHMED sahab say adaban guzarish haye kay yeh is khurafat jhagday kay hukum ban kar koi faisla kun mazmoon tahreer farmayein jis say Islaam ka sahih aqeeda zahir ho. Aur kam az kam is blog say tuo jhagda khatm ho. Aur kahin mujh say bhi ghalti ho rahi ho tuo mayein bhi apnay aap ko correct karloun, aur apnay tamaam dost ahbaab ko bhi sahi deen say aashna karwaoun.

PAHLE APNA NASB CHECK

PAHLE APNA NASB CHECK KARVALEN!--AAP DEENE ISLAM MEIN TAJDEED KI BAAT KARTE!!!!

SABSE BADI MANHOOSIYAT TO

SABSE BADI MANHOOSIYAT TO TUMHO LOL

IS BLOG PAR KISI NE BHI JADOO TONA QABRON KI POOJA KI BAAT HE NAHI KIYA

TUMLOG HADISAAT LIKHNE WALE JANAB RAZVI BHAI KO GALIAN DEKAR HADISON KA MAZAQ UDATE HO AUR UPPER SE ALLAH RASOOL KI BAAT KARTE HO

RAMZAN KE MAHINE KO DEKHO AUR APNI SHARAMNAK HARKATON KO DEKHO

BHAGANA HO KISI SHAITAN NAJDI DEVBANDI KO
FAQAT DARVAZE PE AHMED RAZA KA NAAM LIKDENA

janab shirk ka irtekab aap

janab shirk ka irtekab aap karen aur ilzaam lagate ho dosron pe? Allah ke bajai mufti khaleel ahmed sahab se madad mangna shirk nahi hai? is blog men jo bhi quran hadis ke proof ke sat likha gaya osko appreciate kiya jata hai.

razvi sahab ne hadison se jawab diya tho mohammadi bee ki shop close hogai.
aap ki dukaan kab tak chalegi nahi malom na quran hai na hadis ka ilm aap ki shop men.

Shirk ka matla nahin maloom haye tuo....

As salaam alaikum
1. Anonymous/Benaam sahab agar aap ko shirk ka matlab nahin maloom haye tuo achchi tarah maloom karlein....moulana mohammad bin abdul wahab ra ki likhi kitab e tauheed market mein available haye......aur har islaami deeni madarsa mein padhayi jati haye.....aap bhi ya tuo madarsa say padh lein ya khareed kar padh lein ya NET SAY DOWNLOAD kar lein.
Mufti Khaleel Ahmed sahab ko mayein nay hukum bananay ki baat ki haye........is ko shirk nahin kehtay. Agar aap kisi say koi pata poochein tuo kiya woh shirk keh layega?....isi liye kaha jata haye kay musalmanoun ko padhna chahiye.....waseeyuzzehan honay kay liye.
2. Ab raha deen ki tajdeed wali baat tuo....yeh tuo hona hi haye.....jab deen e islaam say saari biddatein nikaaldi jayengi tuo Islaam ki tajdeed hi hogi.....AAJ PHIR ISLAAM KO MOHIUDDIN KI ZAROORAT HAYE. Biddatoun say bhara animistic khurafati deen e tasawwuf ko agar aap islaam samajhtay hain tuo phir Allah khair karay.

Dar peh bulaao, Makki Madni (SAW)

ASSALAMU ALAIKUM WO RAHMATULLAHI WO BARKATAHU

DARBARE RISALAT(SAW) MEIN DUROODE SHAREEF AUR NAAT PESH HAI

DUROODE SHAREEF:-
allahumma salli ala muhammadiw wa ala aali muhammadin kamaa sallaita ala ibrahima wa ala aali ibrahima innaka hamidum majid. allahumma baarik ala muhammadiw wa ala aali muhammadin kamaa baarakta ala ibrahima wa ala aali ibrahima innaka hamidum majid

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

BigRi Banaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Deed Teri(P.B.U.H) hai, eid meri

Deed karaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Mehshar may ho lab peh meray

'Mujh ko Bachaao, Makki Madni' (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Apnay (P.B.U.H) nawasoon kay sadqay

Dukhray mitaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Gumbad-e-Khazraa ke saae tallay

Mujh ko sulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Mangta hoon mein sawaali hoon. Ishq-e-Nabi (P.B.U.H) ka pujari hoon

Thokarein khaata hoon dar dar ki. Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

BigRi banaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Har saans mein Madina hai. Muskhkil ab mera jeena hay

Dil mein tamanna hai Taiba ki. Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

BigRi banaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Barsoon say akhiyaan tarsee

Jalwaa dikhaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh Bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Asdi gunahoon mein dooba hua hai

Jaisa hay nibhaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

BigRi Banaao, Makki Madni (P.B.U.H)

Dar peh bulaao, Makki Madni (P.B.U.H)

(Aameen

الصلاة و السلام علی سيد المرسلين

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

الحمد ﷲ رب العالمين و الصلاة و السلام علی سيد المرسلين أما بعد!

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہم پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیر و توقیر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قلبی محبت اور امت پر واجب حقوق کی کما حقہ ادائیگی فرض قرار دی ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو ازرہِ تعلیم ارشاد فرمایا :

إنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاO لِتُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِه وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّ أَصِيْلًاO

القرآن، الفتح، 48 : 8، 9

’’بے شک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم (لوگ) اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

مندرجہ بالا آیت ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر لازمی طور پر بجا لائیں یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی توحید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیرو توقیر کو اپنی تسبیح پر مقدم کیا ہے اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پایاں عظمت و اہمیت کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا یہ قول :

فَالََّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِه وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ اُوْلٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَO

’’پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

الأعراف، 7 : 157

درج بالا آیت بھی ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم پر واجب حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتی ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہم پر جن حقوق کی بجا آوری لازم آتی ہے۔ ان میں ایک حق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود و سلام کا بھیجنا ہے جیسا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :

إِنَّ اﷲَ وَ مَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًاO

القرآن، احزاب، 33 : 56

’’بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر (کثرت کے ساتھ) درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ‘‘

پس درود و سلام وہ افضل ترین اور منفرد عبادت ہے اور یہ وہ افضل ترین عمل ہے جس میں اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی بندوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے بندے کو اﷲ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور اس کے ذریعے گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی اور قیامت کے روز حسرت و ملال سے امان نصیب ہوتا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے والے کے لئے درود و سلام کی فضیلت و اہمیت جاننے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے عوض اﷲ اور اس کے فرشتے اس شخص پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔
------------------------------------------------------------------------

’’حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات اور اولاد کو برکت عطا فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1232، کتاب الأنبياء، باب يزفون النسلان في المشي، رقم : 3189
2. مسلم، الصحيح، 1 : 306، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : 406
3. ابن ماجه، السنن، 1 : 293، کتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : 905
4. مالک، الموطا، 1 : 165، باب ما جاء في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : 395
5. نسائي، السنن الکبري، 1 : 384، رقم : 1217
6. ابو عوانه، المسند، 1 : 546، رقم : 2039
7. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، 1 : 382

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو بیشک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتاہے۔‘‘

. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 117، رقم : 365
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 10 : 162
3. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 362، رقم : 2571
4. مناوي، فيض القدير، 3 : 400

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کوپسند ہو کہ اس کا نامہ اعمال اجرو ثواب کے پورے پیمانے سے ناپا جائے تو (اسے چاہئے کہ) ہم اہل بیت پر درود بھیجے اور یوں کہے : ’’اے اﷲ تو حضرت محمد نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات، امہات المومنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت پر درود بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

ابو داؤد، السنن، 1 : 258، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : 982

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘

1.مسلم، الصحيح، 1 : 306، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : 408
2. ابو داؤد، السنن، 2 : 88، باب في الأستغفار، رقم : 1530
3. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 66، رقم : 8637
4. نسائي، السنن الکبري، 1 : 384، رقم : 1219

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دعا اس وقت تک پردہ میں رہتی ہے جب تک اس کا اختتام مجھ پر درود کے ساتھ نہ کیا جائے۔‘‘

طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 408، رقم : 725
2. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 216، رقم : 1576

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو تو بڑے احسن انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ یہ درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا آپ ہمیں سکھائیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے فرمایا کہو : ’’اے میرے اﷲ تو اپنا درود اور رحمت اور برکتیں رسولوں کے سردار اہل تقوی کے امام اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بندے اور رسول جو کہ بھلائی اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں کے لئے خاص فرما اے میرے اﷲ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس کی خواہش اولین اور آخرین کرتے ہیں اے میرے اﷲ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اوربزرگی والا ہے۔‘‘

أللهم أجعل صلاتک و رحمتک و برکاتک علي سيد المرسلين، و إمام الخير، و قائد الخير و رسول الرحمة. أللهم أبعثه مقامًا محمودًا، يَغْبطه به الأولون و الآخرون أللهم صلّ علي محمد و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيد. أللهم بارک علي محمد و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ.

1. ابن ماجه، السنن، 1 : 293، کتاب اقامة الصلاة و السنة فيها، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : 906
2. طبراني، المعجم الکبير، 9 : 115، رقم : 8594
3. شاشي، المسند، 2 : 89، رقم : 8594
4. بيهقي، شعب الإيمان، 2 : 208، رقم : 1550
5. کناني، مصباح الزجاجة، 1 : 111، رقم : 332
6. منذري، الترغيب و الترهيب، 2 : 503، رقم : 2492

jazakallah

jazakallah

ANNA NAMASTE KYA ANNA APNA

ANNA NAMASTE KYA ANNA APNA NAAM LIKH BHOOL GE

Hazrat ba Yazeed Bustami

Hazrat ba Yazeed Bustami Ramatullah Aleh apne muridaon ke sat ek tung gali se guzar rahe the.doosri taraf se ek kutte(Dog)ko aate dekha.jab kutta samne aya tho ba yazeed peche mudkar aay aur kutte ke liye raasta khali kardiye.aap ke mureed ke dil men ye baat giran guzri k Allah swt ne insane ko buzrogi wo sharafat athaa farmaye hai.aur ba yazeed ra ne ek kutte ki khatir ham sab ko peeche mod liya hai.goya ek is kutte ko tarjee diye.

Ba Yazeed ra us mureed ke khayal ko jankar kaha.us kutte ne ba zubani hall mujh se kaha k ai ba Yazeed ye sab khuda ki shan hai k roze azal men mujhe kutta banadiya.aur aap ko jama insani pehnaya.aur phir aap ko sultanul arifeen ki khaba bhi pehnadi.dekhia mien bhi osi ki makhlokh hoon.kutte ki is baat se mien pareshan hogaya.aur khuda ke fazal wo karam ke shukar men mien peeche hut aaya.aur kutte ke liye rasta khali kardiya.Book Name:Tazkaratul auwlia.Page No 213.

Moral:Allah ka karam hum insano per hai k usne apne karam se humen insane banaya.nahi tho ye kiski majal thi k wo ye kehta k ai khuda humko kutta gaye na bana siraf insane he bana.maloom huva k ye fazal wo sharafat bhe Allah k karam se hai.humain Allah ka har wakht shukar ada karna chaiye.guroor ghamand fakhar nahi karna chaiye.

Mirza sahab ka bohat bohat shukria itna waqat nikal kar likhe.per aap bohat ziyada sochte rehte hain.ba Yazeed ra ki ghalat baton ko log ghalat he kehte hain.per unko ghalat nahi kehte iski wajha wo majzobe the is liye.jo admi ek kutte ko Allah ki makhlookh hai kehkar apne se kam na samajta ho wo khud ko khuda se bada hosh men rehkar nahi keh sakta.

Abu Abdullah saheb ya Mirza saheb aap log tauheed ki baat bolte aur tauheed sunate rehte hain.phir baad men agar aapko bhi jazb hojaye tho log aap ko ghalat nahi bolinge.kiyun k aap se hum ne tauheed bhi sunee hai wo is liye.aisa he mamla ba Yazeed ra ka hai.

Pagalpun insane per hamesha rehta hai.usko pagal kehte hain.per jazab ki kaifiat humesha nahi rehti.iske bare men aap sochiye.sorry agar mien kutch ghalat bola hoon tho.Allah hafiz.

Salaam Alekume Mirza Saheb

Salaam Alekume

Mirza Saheb agar Aap Ijazat de tho mien aap ko Mirza bhai bologna?
aap ka gusa batata hai k aap bohat badguman hogaye

aap ki knowledge aur personality k samne mein kutch bhi nahi hoon.per dekhia aap guse men galti kardiye.aap ne kaha k Ba Yazeed ra ki split personality the.

Split personality bolinge k agar ek admi bhotse roop banakar logon ko deliberately alag alag impression deta hai.per ba Yazeed ra ne jo kutch hosh men rehkar bole us se koi bhi bura nahi bola.per jazab ki halat men jo bole osko koi bhi sachi baat nahi bola.inke tho 2 roop the.jazab ka aur hosh men.

aapne bhi bola ke sob sofion ne ba Yazeed ra ki baton ka difa kiya.aap soncho k difa kab kiya jata hai?difa karte hain kisi galat baat ka.iska matlab difa karne wale log ye jante hain k baat galat hai.tho phir aap ki sonch aur sofion ki sonch same same he hori.sob he galat baat ko galat bole.

mein ne us waqiye men likha tha ba yazeed ra ne kaha k kutta zubani hall se kehraha tha.aap guse men shayed nahi dekhe honge.zubani hall ka matlab body language hota hai.khayalat padna nahi.aap gusa mat karo.per ek bar phir padlo.

mien ne tho ye nahi bola k aap ba Yazeed ra ko follow karo.mien tho unke waqiye men jo achi baat thi usko bataya hoon.hamko tho quran sunnat follow karna hai.

neem pagal aur majzobe men faraq hai Mirza saheb.neem pagal wo hai jiske dimag men kutch problem ho.

jazab ka jumla bana hai jazbat se.jazbat ko controle na karsakne wale ko jazbat men rehne wale ko majzobe bolte hain.

Mirza saheb aap apne dilpar hat rakh k bolo kiya kabi aap ne apni beti ko nahi bole k gudya tho meri jaan hai?agar bole hain tho yeh jazbati baat hai.beti ki mohabat men ap ne jazbat men akar bola hai k beti aap ki jaan hai. actually aap khudse jan de b nahi sakte aur jaan le b nahi sakte.am I right?

soncho tho beti men aap ki jan nahi rehti.per apboldia ise he jazbat bolte hain.aur bhi bohat se baar aap kuctch na kutch jazbat men akar galat boldete hain.tho phir aap bhi majzobe hogaye k nahi? please naraz na hona.mein example de raha hoon.

Aap ki beti ne koin khahish ki tho aap osko poora kardete honge.aur aap ki office men aap ke boss ne kutch bola tho osko bhi poora kardete hain.dono baton men faraq ye hai k beti ki baat mohabat men mane aur boss ki baat faraz samajhkar mane.

beti ne mohabat men jo manga tho usne apki capability nahi dekhi.per boss ne jo bola wo janta tha k aap osko poora karsakte hain.yehi faraq mohabat aur faraz ka hai.faraz poora na hova tho punishment milsakti hai oske baad aap silent hojate hain.aur mohabat men baat poori nai hovi tho phir aap bahot disturb hojate hain.

disturb hokar aap apni beti ko manane k liye kutch aur jo possible ho karne ki koshish karte hain jab k beti aap ko saza b nahi deti hai.yehi hall sofion ka hota hai faraz poora karne k baad har waqat Allah ko manane men rehte hain.unki sonch ye hoti k humlog Allah ki ek bhi naimat ka shukar ada nahi karskte hain jo faraz hai.tho mehshar k roze Allah swt ko kaise jawab dengen. beti ki mohabat se ziyada Allah ki mohabat hoti hai.satch bola hoon ya ghalat?

Agar mere bolne men galti hogai tho advance men sorry bolta hoon.Allah hafiz

last men ek request haik aap kisi bhi margaye so ya zinda admi ko bure lafzon se mat boliye.khamakha apko gunah honga.otherwise mujhe koi bat nahi.

'Kutte' Waley Saheb

Madani saheb,

Aaap har bar yeh kah rahey hein k bastami saheb ki kafirana bataon ko nazar andaz karkay inki achchi bataon ko daikho.........kiya yeh bath aap 'dil' se kahrahey hein? Kiya waqayee aap yeh khud bhi kariengay? Magar sachaee iskay khilaf hai.......bayazeed saheb ki inn sari 'majzobana, behoshi mein kahi' batien aur irshadat ka difa har 'sofi' karta hai, Iss mazhab ki sari taleemat inkay 'majzobana khayalat' per hi hai. Ekk alag 'Kalma' waza kiya gaya....LA MAJOOD ILLALLAH....yeh sab horaha hai unhi bataon per, jin ko aap har bar kahtay ho kay ghalat hein aur mujhay mashvera day rahe ho kay unko bhool jaon aur ekk 'kutte' kay sath achcha behaviour karnay waley kay aqlaq daikhon????..

Abb issi waqiye ko diakhien.......kiya koi kisi dosre shaqs k khayalat padh sakta hai?(Magar ekk aisa shaqs padh raha hai jis ki'SPLIT PERSONALITY'hai. Kiya janwaron ki zaban ko samjha jata hai?(Quran sirf Hzt Sulaiman AS ka tazkera karta hai) Magar aap kahetay hein kay ekk 'neem behosh shaqs' samajh raha k 'Kutta' kiya kaheraha hai.

Aap kahetay ho kay iss 'DOGHLI SHAQSIYAT'(Split Personaliyt) waley bastami ka Khuda honay aur Khuda se ziyada honay ka dawa mein bhool jaon aur iss 'Kutte' ki zaban ko suno? Aap iss bastami ko, jo kaheta hai kay 'KABA USKA TAWAF KARTA HAI' Neem-Pagal kahenay tayar nahi magar chahetay hein kay 'Kutte' ko rasta dainay per mein uskay aqlaq ki tareef karon? Ji zaroor karta, magar iss Split Personality waley shaqs ko apna ideal nahi bana sakta jo apnay ghoroor aur ghomand mein kaheta hai kay: SUBHANI SUBHANI, MA AZAM SHANI. Jo Namaz e Fajr padakar apnay satoyon se muqatib hokar kaheta hai 'ANI ANA LA ILAHA ILLA, ANA FA'ABEDOON'........

Madani saheb aap ekk aisay shaqs ki pairvi karnay kahtay ho jis per na shariyat lago, na qurani taleemat ka asar...... phir uski taleem ISLAM KAISAY HOVI??......Majzoob hai, na raza farz, na namaz ki khayed, na ghusal, na wazo. Shariyat? pata nahi. Quran? Allah per hansnay wala, jo apnay aap ko khuda se ziyada kahey......aap aisay shaqs ko Islam ka dayee kahetay hein? Aap nay jawab ekk bat ka bhi nahi diya.......umeed kay iss kay jawab mein aap 'KAWVEY KA QISSA' math likh daina.......kay jab iski 'kayen kayen' per kisi nay 'Labaik' kaha. KIYA YAHI DEEN e ISLAM HAI? Jo 'kawvey' aur 'kutte' kay qissay se apni taleemat aghz karta hai?

Shirk ki ek qism yeh bhi!

As salaam alaikum
qarayeen shirk ki ek aam qism yeh bhi haye kay log Allah swt ko malik e mulk aur mukhtaar e kul na maan kar Allah kay bandoun aur uskay istemaal mein aanay wali ashya aur yehan tak kay us ki qabr ko fazayel w barkaat ka mumba w source mantay hain.......jab kay haqeeqat tuo yeh haye kay fazl w barkat ka denay wala ALLAH haye.

Lanatien ka Chapa Khana

Jab Tauheed per zarab lagay aur lanatien khamosh rahe? yeh nahi hosakta...kabhi nahi hosakta...Ekk bhai apni la-ilmi ki wajha se Bayazeed k bare mein likha aur unko samjhadiya gaya k yeh kaun saheb hein.......per lanatien nahi chahata k iss mauqey ko gawadey jo Islam ki Bunyad, Tauheed per zarb laganay issko mila......aur usnay iss kufirana kalam baknay waley ekk pagal ki bakwas chap di aur apni danist mein ussay 'Ilim aur Hikmat' kaheta hai.........haan beshak hai magar Islam-Dushman Illim aur Islam-Dushman Hikmat.......Mulaheza ho..

Aap iss shaqs k khurafati kalemat ko padien jo lanatien nay likhay hein......unmein sirf Esayee rahebaon, Budh bhikshaon, Atishparastaon, Hindoon jogoyon ki tapassiya aur Yahodi rabbis ki tarekud duya ki batien nazar aeien gi.

Nafs kashi. Taruk e Ta'am, Inflicting self injuries, Rahebana zindagi, Riyazat, Muraqeba, Faqeeri o Lachargi, Self Denial, Peeri muridi aur aisay hi khayalat.... iss Pagal shaqs ki hakimana batein hein jo apnay aap ko "Maqlooq k liye Rahmat" kaheta hai aur kaheta hai kay "Duzakh usski muajoodi se Sard hojayegi".......

Suna apnay bhaio, yeh hai inkay Bayazeed Bastami.....jinkay kalemat lanatien nay 'Chapay'.

Ramadam Kareem

Dear Allah, I pray that whoever reads this message shall have your comfort, joy, peace, love, & guidance. I may not know their troubles, but you do. Please keep protecting us. Ameen.
Ramadan Mubarak.

Madani Saheb k Ghosh Guzar-2

MADAI SAHEB,umeed k aapnay merey mursilay padhey hongay aur sath mein zahen ko jinjhordnay waley Abu Abdulla saheb ki tarherien bhi apki nazar se guzri hongi. In mien se koi bhi bat na Tareeqi taur per majhol hai, na mazhabi bunyad per ghalat hai aur na hi socially/ethically absurd. Yeh woh kadwi sachayee hai, jo abhi tak suger coated thi. Islami istelahat, Quran aur Hadees se taweelat se bahut salon tak hamein 'be-hosh' rakha gaya, aur Islam ki bunuadon ko deemak bun kar chattay rahe yeh log.

Aapnay kaha kay jo kalimat 'jazb' 'behoshi' ya 'wajd' mein kahey gaye uska koi wazan nahi koi pakad nahi, koi bahes nahi. Magar haqeekat iskay khilaf hai. Mien Allama Ibn Jozi RA ka ekk quote paish karta hon, aap ki rai ka muntezar rahonga............

Bayazeed Bastami k taluq se farmatay hein k " mein chahata hon k khayamat khayam ho takay mien apna khaima Duzakh per nasab karon. Ham mein se ekk shaqs nay Bayazeed se poocha kay aye Abuyazeed, aisa qoin karogay ....to jawab diya kay: janta hon kay Duzakh mujhay daikhay ga to Sard pad jayega, lehaza mein Maqlooq kay liye Rahmat ban jaonga."(Allama Ibn e Jozi, Tilbees Iblees, tarjuma: Abu Mohammad Abdul Haq, 1999, Page 390)

Wallahi, aap inn per ghaur karein, without any prejudice, sach ashkar hoga. Ham aur aap ko iss sazish ko samajhna hai Bhai, jo Islam ki bunyad, Tauheed per zarab laganay Sahoni taqataon nay belagam chordrakhi hein. Aur issbar hamla baher se nahi, it is from the 'within'..under se hai.

SACH MALOOM KARNE KE LIYE SIRF DNA TEST KAAFI HAI!

SACH MALOOM KARNE KE LIYE SIRF DNA TEST KAAFI HAI!
SAARI HAQEEQATEN ASHKAAAR HOJAIYENGI! ------KAHAN KAHAN SE VIRSA MILNE WALA HAI???

JINKI WAJHA SE AAJ HUM KALMAGO HAIN UNKO GAALI DENE KA MATLAB BHI SAMAJH MEIN AAJAIYEGA?—
ILM EK SAMANDAR HAI USKO SAMAJHNE KE LIYE USKI TAH TAK JANA ZARURI HAI TAB HI USKI MAAREFAT HASIL HOGI----
TUM LKG CLASS KE STUDENT HO!---TUM, TUMHARE DO TAKKE KE AKABREEN JO MUNH CHHUPAKAR BLOG MEIN YAA U-TUBE PER RECORDED POSTING KARTE HAIN ----JINKI TAQREEREN TUMHARE ILM KA ASAASA!!!!!!!--- HAI AUR NAJDI FUND AUR PENSION TUMHARA GUZARA HAI!!!!!!!!!!!---TAQREEB KARI GUMRAH KARNA TUMHARA PESHA HAI!!!!!!!!!!!!-----
HARAMKHOR, TU PAHLE APNA NAAM BADAL, MIRZA GHULAM AHAMED QADIYANI KI AULAAD!

Ilm hasil karo aur apni ek class banao...

As salaam alaikum

1. ILM EK SAMANDAR HAI USKO SAMAJHNE KE LIYE USKI TAH TAK JANA ZARURI HAI TAB HI USKI MAAREFAT HASIL HOGI----
Tuo jao tasawwuf ki gahrayi mein achchi tarah samajh mein aajayega.......magar yeh bhi yaad rakho yeh ek secret mazhab haye har kisi ko poori tarah nahin samjhaya jata.
2. TUM LKG CLASS KE STUDENT HO!
Aap ki tahreeroun aur andaaz e bayaan aur asloob say tuo pata chalta haye kay aap ki koi CLASS hi nahin haye, na abstract aur na hi concrete........
3. Islaam mein pooray kay pooray dakhil ho jao......sahih ul aqeeda musalmanoun ko dekh kar jo HASAD dil mein aag laga raha haye woh KHATM ho jayega.
4. Yeh bhi na bhoolein kay aap nay pehlay hi apna naam badla huwa haye.....aur asli naam chupa rakha haye....kiya is ko munh chipana nahin kehtay.
Hasb e mamool mujhay maloom haye kay aap itnay courageous nahin ho kay meray is murasile ka sanjeedgi say jawaab dogay.

mirza tumari munafiqat phir

mirza tumari munafiqat phir se zaher ho gai jab koi ahle sunnat jamat ka bhai likh ta hai tum fauri comment kar ne ke leye kood jate ho jab ke mohammadi nami shaq kab se kufa ke bare likh raha hai lekin tumare tarf se ek bhi comment nahi aaya ye doghla pan kyon mirza gi

ILM KA HONA ZARURI

ILM KA HONA ZARURI HAI.(HADIS)NABI SAW KA NAIK UMMATI JAB BHI JAHANUM KE OOPER SE GUZRE GA THO JAHANUM KI AAG THANDI HOTI JAYEGI.AUR JAHANUM KAHEGI AYE NAIK UMMATI JALD MUJH PAR SE GUZAR JA.BA YAZID BUSTAMI ISI HADIS KI BASE PAR BOLE.HADIS

ILM, HIKMAT,O DANISH ---- AQWAAL (Hazrat Ba Yazeed Bustami rahm

ILM, HIKMAT,O DANISH ---- AQWAAL (Hazrat Ba Yazeed Bustami rahmatullah alaih)

(1)jo allah kareem se mohabbat rakhta hai, vo dunya aur akhirat dono se raghbat nahi rakhta.

(2)musalmaan ko haqeer, zaleel o khwar samajhna, aur be izzat karna, khud ko gunahon se alooda karne ke mutaaref hai

(3)haque ko pahchanne ke liye khud ko andha, bahra, aur langda samajhkar koshish karo(yane apne nafs ko maro)

(4)haque ki dosti ki teen alamaten yeh hain----(a) darya ki manind sakhawat (b)suraj ki manind shafaqqat (c) aur zameen ki si tawazeh.

(5)agar firaon ko kabhi bhook ka samna karna padhta! to kabhi yeh na kahta "ana rabbakum allallah"

(6)allah jisko bargazeeda karta hai! ek firaon ko is per muqarrar kardeta hai! taake usse ranj o alam se azmaiye

(7)aarif vo hai jo hukumat o iqtedar, aur maal o zar se parhez kare

(8)hayaat ilm mein hai, rahat maarefat mein hai, aur zaoq zikre ilahi mein.

(9)jo doosron per beja hukm chalaye ! vo haque se dooor hai.

(10)jo dosron ka bojh uthaye aur khush akhlaaq ho! haque se nazdeek hai.

(11)nekon ki sohbat, kaare bad se bahter hai aur badon(bad peoples)ki sohbat, kaare bad se badtar hai

(12)zikre ilahi kasrate adad se nahi! balke huzure qalab se hai.

(13)allah subhana taala ke nazdeek sob se maqbool vo shaqs hai jo khalqe khuda ko khush rakhe

(14)boore aamaal, allah subhana taala ke saath khuli dushmani ke mutaaref hai.

Yeh elway par gud ki tarah haye!!!!

As salaam alaikum
1.jo allah kareem se mohabbat rakhta hai, vo dunya aur akhirat dono se raghbat nahi rakhta.............al ain sahab agar aisa hota tuo Allah swt is aayat ko nazil nahin farmata......RABBANA AATINA FID DUNIYA HASNATOUN W FIL AAKHIRATI HASNATOUN WAQINA AZAAB AN NAAR.
2.haque ko pahchanne ke liye khud ko andha, bahra, aur langda samajhkar koshish karo(yane apne nafs ko maro)..........al ain sahab agar haq ko pehchannay kay liye andha behra gunga langda banna hota tuo Allah swt yeh aayat nazil nahin karta jo deen ko nahin pehchannay waloun ko andha behra gunga kaha gaya haye.....(summun bukmun umyun fahum la yerjioon)......yanay jin ka nafs murdah ho won deen e islaam ko nahin pehchan sakta.
3.allah jisko bargazeeda karta hai! ek firaon ko is per muqarrar kardeta hai! taake usse ranj o alam se azmaiye.........al ain sahab Allah swt jis qoum say naraaz rehta haye us per koi firoun....israel jaesa tyrant muqarrar kar deta haye.
Baaqi jo aqwaal bayaan huway hain woh gud say meethay hain aur jin aqwaal ka post mortem huwa haye....woh deen e tasawwuf ki elway ki tarah kadwi goliyaan hain.....aam aadmi ko samajh mein ana mushkil haye.

موئے مبارک سے حصولِ برکت

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

موئے مبارک سے حصولِ برکت
-------------------------------------------------------------

صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برکات کو حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔ جس چیز کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت ہو جاتی اسے وہ دنیا و مافیہا سے عزیز تر جانتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے عمل سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم کے اندر یہ شعور بیدار کر دیا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و تبرکات کو محفوظ رکھتے اور ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے۔
-------------------------------------------------------------

1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موقع پر قربانی دینے سے فارغ ہوئے تو :

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر انور کا دایاں حصہ حجام کے سامنے کر دیا، اس نے بال مبارک مونڈ دیئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو وہ بال عطا کئے، اِس کے بعد حجام کے سامنے بائیں جانب کی اور فرمایا : مونڈ دو، اس نے ادھر کے بال بھی مونڈ دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال بھی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو عطا کئے اور فرمایا : یہ بال لوگوں میں بانٹ دو۔‘‘

مسلم، الصحيح، 2 : 948، کتاب الحج، رقم : 1305
ابن حبان، الصحيح، 9 : 191، رقم : 3879
حاکم، المستدرک، 1 : 647، رقم : 1743
ترمذي، الجامع الصحيح، 3 : 255، ابواب الحج، رقم : 912
نسائي، السنن الکبری، 2 : 449، رقم : 4116
ابوداؤد، السنن، 2 : 203، کتاب المناسک، رقم : 1981
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 111، 214
حميدي، المسند، 2 : 512، رقم : 1220
بيهقي، السنن الکبري، 5 : 134، رقم : 9363
ابن خزيمه، الصحيح، 4 : 299، رقم : 2928
بغوي، شرح السنة، 7 : 206، رقم : 1962

2۔ ابن سیرین رحمۃ اﷲ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک لیے۔‘‘

بخاري، الصحيح، 1 : 75، کتاب الوضوء، رقم : 169

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو دنیا و مافیہا سے عزیز جانتے
-------------------------------------------------------------

3۔ ابن سیرین رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں :

’’میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ موئے مبارک ہیں جن کو ہم نے انس رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں سے حاصل کیا ہے۔ عبیدہ نے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان بالوں میں سے ایک بال بھی میرے پاس ہوتا تو وہ مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتا۔‘‘

ُبخاري، الصحيح، 1 : 75، کتاب الوضوء، رقم : 168
بيهقي، السنن الکبری، 7 : 67، رقم : 13188
بيهقي، شعب الايمان، 2 : 201

حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک سے برکت حاصل کرنا ثابت ہے۔‘‘

عسقلانی، فتح الباری، 1 : 274

ایک اور روایت میں حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں میں سے ایک بال کا میرے پاس ہونا مجھے روئے زمین کے تمام سونے اور چاندی کے حصول سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘

احمد بن حنبل، المسند، 3 : 256، رقم : 13710
بيهقي، السنن الکبري، 2 : 427، رقم : 4032
ذهبي، سير أعلام النبلاء، 4 : 42
ابن سعد، الطبقات الکبري، 3 : 506
ابن سعد، الطبقات الکبري، 6 : 95

موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے بیمار شفایاب ہوئے
-------------------------------------------------------------

5۔ حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

’’مجھے میرے گھر والوں نے حضرت ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس پانی کا (ایک چاندی کا) پیالہ دے کر بھیجا۔ (اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں) جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موئے مبارک تھا، اور جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کچھ ہو جاتا تو وہ حضرت ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس (پانی کا) برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے۔‘‘

بخاري، الصحيح، 5 : 2210، کتاب اللباس، رقم : 5557
ابن راهويه، المسند، 1 : 173، رقم : 145
ابن کثير، البداية والنهاية، 6 : 21
شوکاني، نيل الاوطار، 1 : 69
مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 5 : 510

6۔ علامہ بدر الدین عینیرحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک چاندی کی بوتل میں تھے۔ جب لوگ بیمار ہوتے تو وہ ان بالوں سے برکت حاصل کرتے اور ان کی برکت سے شفا پاتے۔ اگر کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیمار ہوجاتا تو وہ اپنی بیوی کو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس برتن دیکر بھیجتے جس میں پانی ہوتا اور وہ اس پانی میں سے بال مبارک گزار دیتیں اور بیمار وہ پانی پی کر شفایاب ہوجاتا اور اس کے بعد موئے مبارک اس برتن میں رکھ دیا جاتا۔

عينی، عمدةالقاری، 22 : 49

7۔ حضرت یحییٰ بن عباد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :

’’ہمارا ایک سونے کا برتن (جلجل) تھا جس کو لوگ دھوتے تھے، اس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تھے۔ چند بال نکالے جاتے تھے جن کا رنگ حنا اور نیل سے بدل دیا گیا تھا۔‘‘

ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 437

8۔ حضرت عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہوئے فرمایا :

’’ہمارے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال ہیں جو رنگین اور خوشبودار ہیں۔‘‘

ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 437

موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصول کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پروانہ وار بڑھتے
-------------------------------------------------------------

9۔ اسی طرح ایک اور روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں :

’’میں نے دیکھا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک مونڈ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھوم رہے تھے اور چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بال بھی زمین پر گرنے کی بجائے ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرے۔‘‘

مسلم، الصحيح، 4 : 1812، کتاب الفضائل، رقم : 2325
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 133، 137، رقم : 12386 - 12423
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 430
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 181
بيهقي، السنن الکبریٰ، 7 : 68، رقم : 13189
ابن کثير، البدايه والنهايه، 5 : 189
عبد بن حميد، المسند، 1 : 380، رقم : 1273
ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 188

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پسِ مرگ بھی موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حصولِ برکت کے خواہاں تھے۔
------------------------------------------------------------

10۔ ثابت البنانی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’یہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بال مبارک ہے، پس تم اسے میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔ وہ کہتے ہیں : میں نے وہ بال آپ رضی اللہ عنہ کی زبان کے نیچے رکھ دیا اور انہیں اس حال میں دفنایا گیا کہ وہ بال ان کی زبان کے نیچے تھا۔

عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، 1 : 127

ALLAHU AKBAR.RAZVI SAHEB

ALLAHU AKBAR.RAZVI SAHEB JAZAKAMULLAHI KHAIRAN.

BETA RAVINDER KABHI KAHTE

BETA RAVINDER KABHI KAHTE NABI SAW NOORI BASHAR HAI PHIR KABHI INSANO KE BAAL DIKHA KAR JAHIL MUSLMANO KO DHOOKA DETE HO
AUR YE KYA BETA RAVINDER TU MUSALMAN KO SHIRK KI TARAF BOLA RAHA KE WOH AAI AUR BAAL AUR NAQUN KI IBADAT KARE
TEKO TO MALOOM HAI NA BETA RAVINDER HAMARI QAUM JHALAT BAHUT HAI JAB BHI WOH KISI QABR KO DEKH TE HAIN USKE AAGE JHUK JATE AUR ABE YE BAAL YE JAHIL DEKHNA YE BAAL KI POOJA SHORO KAR DAIN GE

ravinder tu moe mubarak ki

ravinder tu moe mubarak ki pooja kar hum huzoor saw ki sunnat ko pakad te hain, kitne din se mohammadi saab tum kufion ki miyyat ka janaza nikal rahe hain uska jawab dene ki bajai tu yahan par bagle haank raha hai ya tu jawab de ya kah de kufi ek batil mazhab hai hum allah ki nahi allah ke rasool ke baal ki ibadat karte hain
aare qabr prast tu kah ke tu allah ki ibadat nahi nale mubarak ki ibadat karta hai
huzoor saw ki sunnat ke alawa har cheez batil hai jis mai ek cheez aap ki qabar jis aap saw ne qud hi kaha ke ye ek butt or moorti hai aare zalim huzoor tu apni qabr ko butt kah rahe hain aur tu jahil qabr prast ek naya fitna moe mubarak naqun(nail) mubarak kal kahe ga goo mobarak hai tera paas

TU AHAADIS KA MAZAQ UDHAATA

TU AHAADIS KA MAZAQ UDHAATA HAI! TUJHE SIRF YE HI KAHA JA SAKTA HAI KE TU NASLE HARAM HAI!!!--KOI BHI QAARI BADI ASAANI SE TERE GHAR KA PATA MALOOM KAR SAKTA HAI KYUNKE RANDIYON KE RAHNE KI JAGAH SIRF MEHNDI HAI

فضیلتِ نماز کا بیان رمضان کے روزے

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفّان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے یقین کر لیا کہ نماز حق ہے اور (ہم پر) فرض ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 60، الرقم : 423، والحاکم في المستدرک، 1 / 144، الرقم : 243، والبيهقي في السنن الکبري، 1 / 358، الرقم : 1562، والبزار في المسند، 2 / 87، الرقم : 439، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 40، الرقم : 2808، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 47، الرقم : 49، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 288.

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ نمازیں ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے جس نے ان نمازوں کو بہترین وضو کے ساتھ ان کے مقررہ اوقات پر ادا کیا اور ان نمازوں کو رکوع، سجود اور کامل خشوع سے ادا کیا تو ایسے شخص سے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے اور جس نے ایسا نہیں کیا (یعنی نماز ہی نہ پڑھی یا نماز کو اچھی طرح نہ پڑھا) تو ایسے شخص کے لئے اﷲ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔‘‘

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : في المحافظة علي وقت الصلوات، 1 / 115، الرقم : 425، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 317، الرقم : 22756، والطبراني في المجعم الأوسط، 5 / 56، الرقم : 4658، 9 / 126، الرقم : 9315، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 366، الرقم : 6292، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 148، الرقم : 546.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرما کے موسم میں جب پتے (درختوں سے) گر رہے تھے باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی دو شاخوں کو پکڑ لیا، ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شاخ سے پتے گرنے لگے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا : اے ابوذر! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اﷲ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان بندہ جب نماز اس مقصد سے پڑھتا ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ کی رضامندی حاصل ہو جائے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح یہ پتے درخت سے جھڑتے جا رہے ہیں۔‘‘

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 179، الرقم : 21596، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 151، الرقم : 560، وقال : رواه أحمد بإسناد حسن.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے گئے۔‘‘

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : تطوع قيام رمضان من الإيمان، 1 / 22، الرقم : 37، ومسلم في الصحيح، کتاب : صلاة المسافرين وقصرها، باب : الترغيب في قيام رمضان، 1 / 523، الرقم : 759، والنسائي في السنن، کتاب : قيام الليل وتطوع النهار، باب : ثواب من قام رمضان إيمانا واحتسابا، 3 / 201، الرقم : 1602. 1603، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 408، الرقم : 9277، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 336، الرقم : 2203، والدارمي في السنن، 2 / 42، الرقم : 1776.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے حالتِ ایمان میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے تو اس کے (بھی) سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جو لیلۃ القدر میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صلاة التراويح، باب : فضل ليلة القدر، 2 / 709، الرقم : 1910، 37، 38، 1801، 1905، ومسلم في الصحيح کتاب : صلاة المسافرين وقصرها، باب : الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح، 1 / 523، الرقم : 740، والترمذي في السنن، کتاب : الصوم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : الترغيب في قيام رمضان وما جاء فيه من الفضل، 3 / 171، الرقم : 808، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : تفريع أبواب شهر رمضان، باب : في قيام شهر رمضان، 2 / 49، الرقم : 1371، والنسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ثواب من قام رمضان وصامه إيمانا واحتسابا، 4 / 156، الرقم : 2، 22، وابن ماجه في السنن، کتاب : الصيام، باب : ماجاء في فضل شهر رمضان، 1 / 526، الرقم : 1641.

’’حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایا تو سب مہینوں پر اسے فضیلت دی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے تو وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘
’’اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں اور میں نے تمہارے لئے اس کے قیام (نمازِ تراویح) کو سنت قرار دیا ہے لہٰذا جو شخص ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ ماہ رمضان کے دنوں میں روزے رکھتا اور راتوں میں قیام کرتا ہے تو وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘

أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر اختلاف يحيي بن أبي کثير والنضر بن شيبان فيه، 4 / 158، الرقم : 2208 - 2210، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في قيام شهر رمضان، 1 / 421، الرقم : 1328.

MASHA ALLAH JAZAK ALLAH

MASHA ALLAH JAZAK ALLAH AHAADIS KA BAHOT HI NAYAAB COLLECTION HAI RAZVI SAHAB ALLAH AAPKO SALAMT RAKHE

KUFI MUNKIRE HADITH NO.1

KUFION NE APNE GHADE HOWE MAZHAB KA DIFA KARTE HOWE INKARE RASOOL SAW AUR UNKI SUNNAT KA INKAR KARTE HAIN AUR APNA BATIL MAZHAB SABIT KAR NE KE LEYE SAHI HADITH KO SHOR KAR ZAIF HADITH PAISH KARTE HAIN

QAREEN KUFION KAR HAR AMAL IMAME AZAM SAW KI SUNNAT KE QILAF HOTA HAI KYON KE YE DUSHMANE RASOOL HAIN, INKI DUSHAMI IMAME AZAM SAW EK AUR SUBOOT MULAIHAZA FARMAI AUR WOH YE HAI KE RAKAT KE LEYE ZAMEEN KO TAIK(SUPPORT) LAGA KAR UTHNA

HAZRAT MALIK BIN HORAIS RZ FARMATE HAIN KE KYA MAI TUM KO IMAME AZAM SAW KI NAMAZ NA BATAON T AAP NE BAGHAIR WAQT NAMAZ ADA KI JAB PAHLI RAKAT KE DOSRE SAJDA SE SAR KO UTHAYA TU JALSE ISTARAHAT KYA PHIR ZAMEEN PAR HATON PAR RAKH TE HOWE HATON PAR WAZAN DAL KAR DOOSRI RAKAT KE LEYE KHADE HOWE(BUQARI,NASAI)

AB KUFION KA MAZHAB MULAIHAZA HO "DO SAJDON KE BAAD APNE QADMO KE PANJON PAR HI KHADA HO JAI NA JALSA KE LEYE BHAITE NA ZAMEEN PAR TAIK LAGA KAR UTHAI(FATAWA ALAMGIR,HIDAYA) YANI MUQLIF SUNNAT KO KOI MOQA NAHI SHORE

QAREENE SIASAT AAP KIS SONCH MAI GUM HO YAHI NA KE HUM IS MASLAK KYA SAMJHE THE AUR YE KYA NIKLA

YE KUFI KUFI KYA HAI YE KUFI

YE KUFI KUFI KYA HAI YE KUFI KUFI BHAI SAHAB KYA AAP KA MATLAB KUFI KAHIN AHLE SUNNATUL JAMAT HANAFI TU NAHI KYON KE MAI NE ABHI ABHI DEEN KI TALEEM SHORO KI HAI AUR YE MIRZA AUR RAZVI KONSI PARTY KE HAI ZARA BATAO PLEASE, SAMAJ MAI NAHI AA RA KE KAUN HAI

MOHAMMADI BI IMAAME AAZAM

MOHAMMADI BI IMAAME AAZAM ABU HANIFA KO SAW LIKHRI HOWLI.ARRE GADHE KI BACHI (SAW) SIRF NABIYOUN RASOOL KO LIKHTE RE HOWLI.

Salaam Alekume. hazrat Ba

Salaam Alekume.

hazrat Ba Yazeed Bustami Ramatullah Aleh ke pados men ek atish parast rehta tha.oska ek sheer khaar beta tha.bacha raat ki tariki men rota rehta is liye k wo atish parast ek ghareeb aadmi tha.aur chirag jalane k liye bhe uske pas kutch nahi tha.

ek raat bacha bohot roya.ba Yazeed ra uthe aur apna chirag oske gharr de aaye.bacha chupp hogaya.dosri raat bhi ba Yazeed ra ne aisa he kare.aur phir tisri raat bhi.

aapke suloke ka us atish parast k dil per aisa asar hova aur apni wife se kehne laga k jab ba yazeed ki roshni hamare gharr men aa ponchi tho ab hamko zeba nahi deta k ham kufar ki tariki men he bhatakte phiren.chalo ottho.shekh ki khidmat men hazir hokar musalman hojana hai.phir woh dono uthe aur ba yazeed ra ki khidmat men hazir hokar kalma padkar musalman hogay.Book Name Tazkaratul auwlia Page No.181

Moral:nek bando ki sohbat men insan nek hojata hai.padosi ka huq Nabi saw ne batladia.hamare piyare nabi ki seerat ka ye natija nikla k kafir bhe musalman hogaya.

Abu Abdullah sahab ki baat se men agree karta hoon.per ye saari baten bhi socho.deen ko phelane wala aadmi khudko khuda nahi bolta.ye hosh men rehkar bolne wale lafaz nahi hai.ba Yazeed ra ke bare men sabne kaha k wo ek majzobe bhi the.jazab onpar ghalib rehta tha.majzobe ki baat jazab men kutch bhi hoti ho sahee nahi hota.

Aatish parast?????

As salaam alaikum
Madani sahab jin hazrat ki aap baat kar rahay ho un kay dadajaan bhi aatish parast thay........
Jab Iran fatah huwa tuo aatish parastoun nay qasam khhai thi kay woh islaam ko barbaad kardengay....aur phir in logoun nay yahudiyoun, nasraniyoun aur budhmat ko mannay waloun say saaz-baaz karkay ek syndicate banaya jis ka maqsad tha kay islaami taleemaat ko khalath-malath kardein.....aur phir woh dour shuroo huwa jahan islami duniya mein sirf qatl w gharathgari rahi, fasaad honay lagay, jo bhi khalifa bana assasinate kiya gaya.....ahadees mein ulatpher shuroo huwa, ilm kalaam (philosophy) ko islaam mein dakhil kiya gaya, mazhab e tasawwuf ki daagh beil dali gayi.......(ROOH jis kay baray mein Allah swt ka irshad haye kay aadmi is taluq say sawaal na karay) magar tasawwuf waloun nay Rooh par bahes ki...aur Rooh, Roohaniyat waghaira ki aad lekar jadoo ko farogh diya...aur phir jadoo ko kashf w karamaat ka naam dediya......
yeh sab mayein ayesay hi nahin kah raha houn.....tareeq is ki gawah haye......Baharhaal aap pehlay falsafaye tasawwuf ko padhein aur phir koi faisla karein.

aapke dada jaan buthprast

aapke dada jaan buthprast aur mandir mein ghanti bajaya karte

How sweet.Thanks Madni bhai.

How sweet.Thanks Madni bhai.

Madani Saheb k Ghosh Guzar

Ekk point damagh mien aya jo mein aap se share karna chahata hon...........jab inn Mazhab e Tasawuf ko manay walon se wafat kay waqt Kalma padhnay kaha jaye to yeh LA ILAHA ILLALLAH....." nahi padh saktay qionkay....Inkay pass JAB KISI GHAIR KA WAJOOD HI NAHI TO NAFI KISS KI KARIEN GAY........yeh hai bunyadi nukta jiski wajah se inko Kalma padhna naseeb nahi hota, zindagi aur maut min.

Aap pareshan hongay kay yeh 'Mazhab e Tasawuf' ko manay waley kaun hein? ...yeh koi aur nahi balkay Muslims mein chopay hove kaley bhaidiye hein jo kisi na kisi Qabar kay pass paye jatay hien, inka karobar Qabraon ka karobar hai, yeh log Qabar Parasti aur Shaqsiyat Parasti ki taleem daitay hein aur inka asal maqsad Islam ki bunyad 'TAWHEED' ko khokla karna hai. Aise nazriyat rakhnay waley log iss blog mein bhi likhty hein, inki zaban islami, woh
quran aur hadees quote kariengay, per iski taweel unki apni hogi, uper sahee ayat ya hadees aur neechay unki apni Taweel. Aap ko un se hoshyar rahena hai. Deen Islam sirf Allah Rasool aur Sahaba ka rasta hai, iskay alawa jo bhi kuch kahe ga woh iss rastay se alag hoga aur woh Islam nahi hosakta.

قدمین شریفین کی برکات

قدمین شریفین کی برکات

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

جس پتھر پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنا قدمِ مبارک رکھ کر تعمیر کعبہ کرتے رہے وہ آج بھی صحنِ کعبہ میں مقامِ ابراہیم کے اندر محفوظ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے لگنے سے وہ پتھر گداز ہوا اور اُن قدموں کے نقوش اُس پر ثبت ہو گئے۔ اللہ ربُ العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدموں کو بھی یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی وجہ سے پتھر نرم ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدومِ مبارک کے نشان بعض پتھروں پر آج تک محفوظ ہیں۔

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أنّ النبی صلی الله عليه وآله وسلم کان إذا مشي علي الصخر غاصت قدماه فيه و أثرت.

’’ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پتھروں پر چلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک کے نیچے وہ نرم ہو جاتے اور قدم مبارک کے نشان اُن پر لگ جاتے۔‘‘

زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 482
سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 27، رقم : 9

2۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین بڑے ہی بابرکت اور منبعِ فیوضات و برکات تھے۔ حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ عرفہ سے تین میل دور مقام ذی المجاز میں تھے کہ اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانی طلب کرتے ہوئے کہا :

’’مجھے پیاس لگی ہے اور اس وقت میرے پاس پانی نہیں، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اُترے اور اپنا پاؤں مبارک زمین پر مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اے چچا جان!) پی لیں۔‘‘
جب اُنہوں نے پانی پی لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اپنا قدمِ مبارک اُسی جگہ رکھا تو وہ جگہ باہم مل گئی اور پانی کا اِخراج بند ہو گیا۔

ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 152، 153
ابن جوزي، صفوة الصفوه، 1 : 76
زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 170
خفاجي، نسيم الرياض، 3 : 507

3۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ سخت بیمار ہو گئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی اور اپنے مبارک پاؤں سے ٹھوکر ماری جس سے وہ مکمل صحت یاب ہو گئے۔ روایت کے الفاظ ہیں :

’’پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مبارک پاؤں مجھے مارا اور دعا فرمائی : اے اﷲ! اسے شفا دے اور صحت عطا کر۔ (اس کی برکت سے مجھے اسی وقت شفا ہو گئی اور) اس کے بعد میں کبھی بھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوا۔‘‘

نسائي، السنن الکبریٰ، 6 : 261، رقم : 10897
ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 560، ابواب الدعوات، رقم : 3564
احمد بن حنبل، المسند، 1 : 83، 107
طيالسي، المسند، 1 : 21، رقم : 143
ابويعلي، المسند، 1 : 328، رقم : 409
ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 7 : 357

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک اگر کسی سست رفتار کمزور جانور کو لگ جاتے تو وہ تیز رفتار ہو جاتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر اپنی اُونٹنی کی سست رفتاری کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پائے مبارک سے اُسے ٹھوکر لگائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
والذی نفسی بيده لقد رأيتها تسبق القائد.

قسم اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اس کے بعد وہ ایسی تیز ہو گئی کہ کسی کو آگے بڑھنے نہ دیتی۔‘‘

ابو عوانه، المسند، 3 : 45، رقم : 4145
بيهقي، السنن الکبریٰ، 7 : 235، رقم : 14132
حاکم، المستدرک، 2 : 193، رقم : 2729

5۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے اُونٹ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ ذات الرقاع کے موقع پر اپنے مبارک قدموں سے ٹھوکر لگائی تھی، جس کی برکت سے وہ تیز رفتار ہو گیا تھا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :

’’تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پائے مبارک سے اُسے ٹھوکر لگائی اور ساتھ ہی دُعا فرمائی، پس وہ اتنا تیز رفتار ہوا کہ پہلے کبھی نہ تھا۔‘‘

احمد بن حنبل، المسند، 3 : 299
مسلم، الصحيح، 3 : 1221، کتاب المساقاة، رقم : 715
نسائی، السنن، 7 : 297، کتاب البيوع، رقم : 4637
ابن حبان، 14 : 450، رقم : 6519
بيهقی، السنن الکبریٰ، 5 : 337، رقم : 10617

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اُن سے دریافت کیا کہ اب تیرے اُونٹ کا کیا حال ہے تو اُنہوں نے عرض کیا :
بخير قد أصابته برکتک.
’’بالکل ٹھیک ہے، اُسے آپ صلی اﷲ علیک وسلم کی برکت حاصل ہو گئی ہے۔‘‘

بخاري، الصحيح، 3 : 1083، کتاب الجهاد والسير، رقم : 2805
مسلم، الصحيح، 3 : 1221، کتاب المساقاة، رقم : 715
ابو عوانه، المسند، 3 : 249، رقم : 4843

2۔ ناخن مبارک سے حصولِ برکت-
-----------------------------------------------------------

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ منیٰ میں حصرت عبداﷲ بن زید کو اپنے موئے مبارک اور ناخن کٹوا کر عطا فرمائے جن کو انہوں نے بطور تبرک سنبھال کر رکھا۔ ان کے صاحبزادے حضرت محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :

’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر میں اپنا سر اقدس منڈوایا اور بال انہیں عطا کر دیئے جس میں سے کچھ انہوں نے لوگوں میں تقسیم کر دیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناخن مبارک کٹوائے اور وہ انہیں اور ان کے ساتھی کو عطا کر دیئے۔‘‘

احمد بن حنبل، المسند، 4 : 42
ابن خزيمه، الصحيح، 4 : 300، رقم : 2931
حاکم، المستدرک، 1 : 648، رقم : 1744
بيهقي، السنن الکبری، 1 : 25، رقم : 91
بيهقي، شعب الايمان، 2 : 202، رقم : 1535
هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 19 (اس کے تمام راوي صحيح ہيں)
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ 3 : 536
شوکاني، نيل الاوطار، 1 : 69
مقدسي، الأحاديث المختارة، 9 : 384، رقم : 353
اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ اور اس کے رجال مشہور و ثقہ ہیں۔

صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برکات کو حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔ جس چیز کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت ہو جاتی اسے وہ دنیا و مافیہا سے عزیز تر جانتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے عمل سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم کے اندر یہ شعور بیدار کر دیا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و تبرکات کو محفوظ رکھتے اور ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقۂ نماز

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

تکبیرِ اُولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان
---------------------------------------------------------

’’حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے جب کہ رکوع سے اپنی پشت مبارک کو سیدھا کرتے پھر سیدھے کھڑے ہوکر (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جھکتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ پوری ہوجاتی اور جب دو رکعتوں کے آخر میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : التکبير إذا قام من السجود، 1 / 272، الرقم : 756، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم : 392.

’’ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے خواہ وہ فرض ہوتی یا دوسری، ماہِ رمضان میں ہوتی یا اس کے علاوہ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے۔ پھر سجدہ کرنے سے پہلے (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جب سجدے کے لئے جھکتے تو (اَﷲُ اَکْبَرُ) کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب دوسری رکعت کے قعدہ سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ پھر فارغ ہونے پر فرماتے : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم سب میں سے میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تادمِ وِصال اسی طریقہ پر نماز ادا کی۔‘‘

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : يهوي بالتکبير حين يسجد، 1 / 276، الرقم : 770، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : تمام التکبير، 1 / 221، الرقم : 836.

’’حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ اور یہ نماز کے معینہ اوقات کے علاوہ کی بات ہے۔ سو انہوں نے قیام کیا، پھر رکوع کیا تو تکبیر کہی پھر سر اٹھایا تو تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا، پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا پھر سجدہ کیا۔ پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا۔ انہوں نے ہمارے ان بزرگ حضرت عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کا بیان ہے وہ ایک کام ایسا کرتے جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ دوسری اور چوتھی رکعت میں بیٹھا کرتے تھے۔ فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ تو فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : المکث بين السجدتين إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 282، الرقم : 785.

’’حضرت حسن بن علی، معاویہ، خالد بن عمرو اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ سفیان نے اپنی سند کے ساتھ ہم سے حدیث بیان کی (کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) پہلی دفعہ ہی ہاتھ اٹھائے، اور بعض نے کہا : ایک ہی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔‘‘

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : التطبيق، باب : من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم : 749.

رمضان المبارک کے روزوں کا بیان
----------------------------------------------------------

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔‘‘
اور طبرانی کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو (زنجیروں میں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟‘‘

أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر الاختلاف علي معمر فيه، 4 / 142، الرقم : 2106، وفي السنن الکبري، 2 / 66، الرقم : 2416، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 270، الرقم : 8867، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 323، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 60، الرقم : 1492، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 143.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص (بحالتِ روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر (برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصوم، باب : من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم، 2 / 673، الرقم : 1804، وفي کتاب : الأدب، باب : قول اﷲ تعالي : واجتنبوا قول الزور، 5 / 2251، الرقم : 5710، والترمذي في السنن، کتاب : الصوم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في التشديد في الغيبة للصائم، 3 / 87، الرقم : 707،

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سحری کے کھانے کے ذریعے دن کا روزہ (پورا کرنے) کے لئے مدد لو اور قیلولہ (دوپہر کو کچھ دیر کی نیند) کے ذریعے رات کے قیام کے لئے مدد لو۔‘‘

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الصيام، باب : ما جاء في السحور، 1 / 540، الرقم : 1693، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 214، الرقم : 1939، والحاکم في المستدرک، 1 / 588، الرقم : 1551، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 89، الرقم : 1620.

RAVINDER KYA PAGES KALE

RAVINDER KYA PAGES KALE KARRA RE

beta ahaadis tujhe nazar

beta ahaadis tujhe nazar nahi aarahi, yaa tu ahaadis se bezaar hai!
iska matlab yeh hai ke tu mehndi ki paidawar hai, yaa pados ke chacha ne tere ghar walon ko free mein bahot enjoy kiya hai! aur tu bhi free mein aagaya!

kab tak ravinder ko pukarega vo to legaya tumari amma ko! humko ilzaam na laga bhai hum mein koi bhi ravinder nahi samjha bhai!!!!!!!!

RAVINDER NAMASTE KYA ANNA

RAVINDER NAMASTE KYA ANNA BAHUT GHUSSE MAI DIKH RE YARO ANNA HAMARA KAAM HI TUM QABR PRASTON KO PRAISHAN KARNA

welcome back Razvi

welcome back Razvi Sahab.Ramzan Mubarak.

aap ke hadis ke collection ka jawab nahi.jazakallahi khayer.
sunnion ne Sher(Tiger)pala.Razvi Sahab Zindabad.

Sufism mein shirk jayez... Islaam mein gunah

As salaam alaikum
Madani sahab is murasile ko ghour say padhein. Aur yeh manlein kay sufism ka taluq deen e islaam say hargiz nahin haye...yeh ek deviation haye aur deception haye....haan is ki aksar terminologies arabic say hoti hain takay hum yeh samjhein kay yeh deen e islaam ka hissa haye...........Islaam is a practical religion where every thing has to be done with conscious intentions.....Junoon, Jazb.....say khali. Allah swt ka irshad haye kay koi paighamber ya koi rasool pbuh majnoon nahin hota...woh hamesha concious hota haye magar Sufism mein subconciousness ki ahmiyyat haye....latayef e sitta...kundalini...chakra say kaam liya jaata haye. Isi mazmoon mein dekhiye kay ek sufi BAK RAHA HAYE JUNOON MEIN KIYA KIYA KUCH.......SHIRK, SHIRK aur SIRF SHIRK.....jo kay Islaam mein na qabil e muaafi gunah haye......phir yeh hazrat kis tarah say muhteram ho gaye.
Lijiye is sawaneh per nazar dalein:
Bayazid Bastami, also known as Abu Yazid Bistami or Tayfur Abu Yazid al-Bustami, (804-874 or 877/8 CE) was a Persian Sufi born in Bastam, Iran. Bayazid's grandfather was a Zoroastrian who converted to Islam. His grandfather had three sons, Adam, Tayfur and 'Ali. All of them were ascetics. Abayazid was born to Tayfur. Not much is known of his childhood, but Bayazid spent most of his time in isolation in his house and the mosque. Bayazid was in close contact with the Twelve Imams. He received initiation from Imam Ali ar-Ridha ra indicating it is most likely he would have also associated with the succeeding Shi'ite Imams, including Imam Muhammad at-Taqi ra (d.835 CE), Imam Ali al-Hadi ra (d.868 CE), and Imam Hasan al-Askari ra (d.874 CE). His paternal ancestors Baha-ud-Din Naqshband Bukhari, who would later lend his name to the chain of Central Asian Sufi Masters from the 10th to the 16th century known collectively as the Khwajagan. Dhu'l-Nun al-Misri (d. CE 859), a student of Jābir ibn Hayyān, who was a student of the sixth Imam Ja'far al-Sadiq ra, formulated the doctrine of ma'rifa (gnosis), presenting a system which helped the murid (initiate) and the shaykh (guide) to communicate. Bayazid Bastami took this a step further and emphasized the importance of ecstasy, referred to in his words as drunkenness (sukr or wajd or jazb), a means of self-annihilation in the Divine Presence. Before him, Sufism was mainly based on piety and obedience and he played a major role in placing the concept of divine love at the core of Sufism.
Bayazid was most famous for openly expressing himself. When Bayazid began to express himself openly, many shunned him. The people opposed to his openness accused Bayazid of being a heretic due to his bizarre sayings. Not only his sayings are controversial, but Bayazid also claimed to have traveled through the 7 heavens in his dream. This journey proclaimed by Bayazid is similar to the Mi'raj of the Prophet Muhammad (Sells, pg 213).
These sayings are some of Bayazid's famous sayings that caused him to be labeled as an intoxicated Sufi.
1. "Glory be to me! How great is My majesty!"(Not of Allah swt….nauzubillah)
2. "Thy obedience to me is greater than my obedience to Thee"(Allah swt)
3. "I am the throne and the footstool"
4. "By my life, my grasp is firmer than His"(Allah swt)
5. "I saw the Kaba walking round me"
6. "Moses desired to see God; I do not desire to see God; He desires to see me"
7. "I am I; there is no God but I; so worship me!"
Bayazid died in 874 CE and is buried either in the city of Bistam in north central Iran, or in Semnan, Iran. Interestingly enough, there is a shrine in Chittagong, Bangladesh that local people believe to be Bastami's tomb as well. This seems unlikely to be true, as Bastami was never known to have visited Bangladesh. However, Sufi teachers were greatly influential in the spread of Islam in Bengal and this might explain the belief. The Islamic scholars of Bangladesh usually regard the tomb at Chittagong attributed to him as a jawab, or imitation. One explanation is the local legend that Bayazid did indeed visit Chattagong. At the time of his return, he found that his local followers did not want to leave. Overwhelmed by the love of his local followers, he pierced his finger and dropped a few drops of his blood on the ground and allowed his followers to build a shrine in his name where his blood drops fell.This also explained by the traditional Sufi masters as a mash-had, or site of witnessing, where the spiritual presence of the saint has been witnessed, and is known to appear. This is explained through the Sufi concept of the power of the saint's soul to travel and in its spiritual form, even after death, to appear to the living.
Note: Jo log deen e islam kay practical pehlu ko nazar andaaz kar kay animism kay falsafa e rooh, jadoo, associationism waghairaha ko apnalein kiya woh sahih ul aqeeda sunni ho saktay hain.......agar HAAN tuo aap koi ek hawala ayesa dijiye jahan humaray piyare Aqa Rasool Allah pbuh say saabit ho......Aap pbuh nay kaabe ka tawaaf kiya, Aap pbuh nay kabhi yeh na kaha kay meri pakad Allah ki pakad say mazboot haye......FANA FILLAH BAQI BILLAH kabhi nahin kaha.....tuo phir yeh ISLAAM aur SUNNAT kaisay hogaya?

JHOOTA KAZZAAB

Sahih Al-Bukhari HadithHadith 1.33 Narrated byAbdullah bin Amr
The Prophet said, “Whoever has the following four (characteristics) will be a pure hypocrite and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy unless and until he gives it up.
1. Whenever he is entrusted, he betrays.
2. Whenever he speaks, he tells a lie.
3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous.
4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and insulting manner.”

RE

YEH SAB TO TUJH PER SADIQ ATA HAI, WORD BY WORD, ZAIR ZABR KA SATH....... NAAM LIKHNAY MEIN KAHEEN LIKHNAY MEIN KOI GHALATI LAGTI HAI.........PHIR SE PADH........MERY KHAYAL SE TOH BASTAMI KAY AQWAL e ZAREEN KAY TALUQ SE SONCH RAHA HOGA YEH LIKHTAY WAQT......KAAN SE MILTAY RE YEH PAGAL (Split Personality waley) LOG TUM LOGAON KO?(yani qabar parastaon ko)

NASB KI KHARABI

NASB KI KHARABI

AAP, APNA NASB ZARUR CHECK KARVALEN---- KYUNKE AAPKE QAOL AUR FAHEL MEIN KAAFI TZAAD HAI, JIN BUZRUGON KI TABLEEGH SE ISLAM AAJ 4 BILLION PLUS HOCHUKA TUM UNKO HI GAALI DETE HO, TUMHARI NAJDI TABLEEGH(FAREBKARI) TO AB 200 SAAL SE SHURU HUVI HAI! YANE JO 1200 SAAL MEIN TABLEEGH HUVI VO GHALAT THI???? ISKA MATLAB 200 SAAL SE SAHI ISLAM AAYA HAI----BAQI SOB GHALAT!-----ISILIYE AQAA(SAW) NE FARMAYA KE NAJD SE FASAD VO FITNA UTHEGA SHAITAN KE SEENG UGENGE

Tableegh e Islaam!!!!!

As salaam alaikum
Anonymous sahab Jin buzurgaan e deen ki baat aap kar rahay ho woh dar asal buzurgaan e deen e tasawwuf haye.......jis mein khaliq w maqlooq mein koi farq nahin, jis ka kalma alagh, jis mein kashf kay naam par jadoo, animism yani roohoun ki ibadat (qabr parasti), infallibility of certain persons.....aur kayi aisay aqeeday hain jin ka DEEN E ISLAAM say door ka bhi taluq nahin. Aap ki ittel'a kay liye 200 saal pehlay deen e tasawwuf ko khatm karkay deen e islaam ki dobara tajdeed ki koshish ki gayi...jo bahut hadd tak kamiyaab koshish rahi.........agar aap ko deen e tasawwuf say kinarakashi nahin karna ho to na karein ....magar deen e tasawwuf (theosophyy) ko lillah ISLAAM ka naam na dein. Lihaza jin buzurgoun ki tableegh ki aap baat kar rahay ho, unhoun nay islaam nahin balkay tasawwuf ki tableegh ki haye.....ab 200 saal say jo tableegh ho rahi haye woh quran aur sunnat kay mutabiq islaam ka revival ho raha haye......agar aap ka nasb sahih haye tuo khalis deen e islaam mein dakhil ho jao....aur qabarparsti ko farogh denay walay buzurgaan e deen e tasawwuf say kiinarakashi karlo.(al ain sahab)

Wahaabi beliefs

* "Gentlemen! Muhammad Ibne Abdul Wahaab Najdi appeared in early 13th century in Najd (in Arabia) and since he held wrong thoughts and evil beliefs, he waged war against Ahle Sunnat Wa Jama'at and deemed killing them to be a virtuous deed and one which brought mercy. . . He was most insolent towards the virtuous of the earlier generations. It was Muhammad Ibne Abdul Wahaab's belief that the whole world and all Muslims the world over were unbelievers and polytheists, and, so, waging war against them and depriving them of all their worldly goods was not only lawful and permitted but also obligatory. . . (Ibne Abdul Wahaab Najdi and his band) declare that having a vision of the holy Prophet (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) or appearing before the blessed presence of the Prophet or visiting the holy Prophet's blessed grave, all are innovations and thus unlawful... Some of them even go so far as to say that journeying in order to visiting him (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) is like committing fornication (May Allah forbid!)... The Wahaabis use most insolent language about Prophethood and the personality of the holy Prophet (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) and consider them. selves to be the equal of the prince of the universe (Sallal Laahu Alaihi Wasallam). They think that we owe nothing to the holy Prophet (Alaihis Salaam) after his passing away, nor any benefit accrues to us from his blessed personality, and, so, it is unlawful to make a supplication to Allah invoking his intercession. Their elders say (May Allah forbid, but merely reproducing a polytheistic saying is not polytheism) that the staff in our hands is of greater benefit to us than the person of the prince of the universe (Alaihis Salaatu Was-Salaam), in that with the staff we can defend ourselves at least against dogs whereas we cannot do even this much with the aid of the pride of the universe (Sallal Laahu Alaihi Wasallam)... On the slightest pretext, the Wahaabis would declare Musalmaans to be unbelievers and polytheists, and believed, and still believe, their lives and their properties are lawful for them. . . The Wahaabis use extremely foul language for the holy Prophet. . . In Wahaabi belief and action, it is not permitted to journey in order to pay a visit to the holy Prophet's (Sallal Laahu Alaihi Wasallam). All this is contained in their books and writings.
(Ash-Shahaabus Saaqib, Pages 42, 43, 45, and 47; Naqsh-e-Hayaat, Pages 122, 123, and 432; by Janab Husain Ahmad Tandvi Madni, Principal, Madrasah Deoband.)

"If Prophets are distinguished from their followers then such distinction is confined only with regard to knowledge. But so far as deeds are concerned, most often their followers are equal to them, and some times even excel them".
(Tahzeer-un-Naas, Page 5 by Muhammad Qaasim Nanotvi.)

* "Every Prophet is the chief of his followers only in as much as there is the head of a community or the landlord of a village".

* "Allah's glory is so vast that all Prophets and friends of Allah are insignificant particles of dust before Him".

* "Every creature, be he big (a Prophet) or small (a non-Prophet) is more lowly than even a cobbler before the glory of Allah".

* "This means that all men are brothers unto each other. He who is older in age is an elder brother and should be given the respect that is due to an elder brother. But Allah is the sovereign of all and only He should be worshipped".

* "The friends of Allah, the Prophets, the beams or their progeny, the spiritual guides and the martyrs, all these are mere human beings and humble slaves and our brothers and should be respected only as our elder brothers, while worship is exclusively reserved for Allah."

* "Before Him, the position of the best of creations, Muhammad (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) is such that he was frightened out of his wits on hearing such a thing from the lips of a ruffian".

* "It is of no consequence whether the Prophet likes a thing to happen or does not like it".
(Taqwiyat-ul-lmaan. Pages 14, 54, 58 and 61, by Janab Isma'iel Dehlvi Phulti Balakoti).

* "He who calls him (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) to be his brother because of his being of the progeny of A'dam does not go against the text
(of the Qur'aan and the Sunnat)".—
(Bruaheen-i-Qaati'ah, Page 3, by Janab Khaleel Ahmad Ambethvi as certified by Janab Rasheed Ahmad Gangohi.)

(On the same analogy, it would not be against the text of the holy Qur'aan and the Sunnat if the ulama of Deoband are called the brothers of Namrood, Fir'aun, Hamaan, Krishna, Ram Chander, Gandhi, Mirza Qadiani. According to their own fatwa, doing so would be rather perfectly justified).
Allah apne Habeeb Shafaye Mahshar salleallaho alihi wasallam ka sacha ashiq bana kar dhunia mei rakhey aur Qadiaani, mirzaiyee, wahabi, tablighi, moudidi, naikie ka gumrah firkho se bachaye. Ameen

Ooooh bahot khatarnak aqeda

Ooooh bahot khatarnak aqeda hai inlogon ka.Mustafa saab inlogon ko musalman bolsakte?plz batana.
bhot acha kaam karre na aap logan.jazay khair milinga aplogon ko.

aare ghulam tu ab tak wohi

aare ghulam tu ab tak wohi shirkya naam abdul mustafa istemal kar raha hai mushrik, ab rahi baat hazrat abdul wahab najdi rahmatul ki baat tu unki baat jote ki nook par rakh kyon ke unki baat hujjat nahi naib ki tarah tu chahe tu unki thokra bhi sakta hai aur qubool bhi kar sakt ta
lagta hai baat samaj mai nahi aai aur aai gi bhi nahi kyon ke tu allah ka nahi uske bande ghulam hai agr dum hai tu mohammadi saab ki baat ka jawab do point to point kaisa janaza mohammdi saab nikal rahain tumare mazhab ka

arey khabees tere ko nabi ki

arey khabees tere ko nabi ki taouheen karne wala rahamatullah dhekra, kis pe hoti rey rahmat malooom mal ooon tere koo, zara acha pad ba kia kia bolko gai tere aba woh ajda 200 saal mei, phir mazhab samaj mei ata mohammedi bi kia bolri woh razvi bhai sambal lete osko, niche dhikta nai kitne loga shokria ada karai onka, allah ka fazl hai, allah onko aur sahato salamti ata farmaye. raha tere mohammadi bee ke jatke ek article mei finish hogai. bool tere ko bhi challenge hai makka madina mei 20 rakat taraweeh kiov hori aur tere jaisa dackkana 8 par finish kiov karrai. khair thumey loga 20 padho 8 pado sawab ke haqdara tho nai ha thoda mehnat ziad hothi bol koch sunnia samja tai thum loogo ko, chanda paani ka khyal rak season chal ra, ye olte sidhey batha nakko baa

hazrat,haji,molana,mohdis,muf

hazrat,haji,molana,mohdis,muffakir,daai,zahid,abid,muttaqi janab mufti abdul wahab najadi rahmut allah
allah aap ki qabr noor se bhar de ameen ya rabbul alimeen
aap r.a ke naam se murde aur qabr prast kamp te hain
aap r.a ye qabr prast mulk(india) mai rahte tu har murda bulldozar ki awaz se apni qabr ko shor kar bhag jata
ala hazrat tu aap r.a ke naam se kai dafa lungi geeli kar leye
wahbiat zindabad bralviat,deobandiat murdabad

sach kaha! dajjal se log

sach kaha! dajjal se log aise hi darte ba.laikin iska bhe ilaaj hai chote.ye padle.

bhagana ho kisi shaitan najdi devbandi ko
faqat darwaze pe ahmed raza ka naam likdena

har roz aala hazrat ka naam 3 baar lete raho.dajjalon ka khof jaata rahega.

Muqabila-comparison why?

As salaam alaikum
1. Allah swt ka koi hamsar haye na saani.......Allah swt jayesi koi shae'e nahin. humara zehan bhi itna mahdood haye kay hum is baray mein kuch sonch bhi nahin saktay.....lihaza ghulam mustafa sahab, Allah swt aur kisi Allah kay banday kay darmiyaan koi muqabila hi nahin....aur agar koi muqabila karta haye tuo woh JAHEL haye....khwah woh duniya ki nazar mein alim ka darjah kyoun na rakhta ho. Muqabila un do cheezoun kay darmiyaan mumkin haye jis kay attributes, characteristics aur ausaaf mein mushabihaat aur ikhtelafaat houn.........kiya yeh mumkin haye kay Allah swt kay ausaaf kulli tour per kisi banday mein moujood houn.......agar aap kehtay hain kay HAAN tuo phir aap quran ki us aayat ko jhutla rahay hain jahan yeh kaha gaya haye kay ALLAH swt jaisi koi aur shae'e nahin haye.
2. itna dimagh mein rakhiye kay Allah , Allah haye malikul mulk.....aur Allah ka koi bhi bandah, Allah ka bandah haye...majboor aur muhtaaj faqeer.......NO comparison at all.
3. Allah ki kitaab aur sunnat e rasool pbuh par nazar rakhiye aur mukhtalif musannifeen ki kitabein un kay apnay khayalaat aur aqayed zaher karti hain aur in mein unkay limited brain say kiya gaya interpretations hotay hain.....be a rational gentleman.......kis nay kiya kaha us kay liye wohi zimmedaar haye aur wohi accountable haye.......hum log kyoun un kahi huwi batoun ko lekar jhagadh rahay hain......mera murasila subjective aur objective ko ghour say padhiye....

KUFI MUNKIRE HADITH NO.1

DO(2) SAJDON KE DARMIAN BHAITNA: SAHI HADITH KI HAR KITAB MAI AAP KO IMAME AZAM KA DO SAJDON KE DARMIAN BHAIT NA HUKUM MIL JAI GA LEKIN MAZHAB KUFA KAH TA HAI DONO SAJDON MAI BHAITNA ZAROORI NAHI(FATAWA ALAMGIRI,HIDAYA)

JALSE ISTARAHAT: NAMAZ KE HAR EK RAKUN KO IMAME AMAZ SAW KE TARIQE KE MUTABIQ KAR NE KA HUKUM KYON WOH ASWAH HUSNA(BAHTREEN NAMANA) HAI AUR IMAME AZAM SAW NE KHUD FARMAYA NAMAZ AISA PADHO JAISA KE MUJHE PADHTE HOWE DEKHA, TU AMAL MAI SE EK AMAL HAI JALSE ISTAHARAT YANI IMAME AZAM SAW JAB SAJDE RAKAT KE LEYE UTH TE TU SAJDE KE BAAD THODI DAIR KE LEYE BHAITH JATA THE
HAZRAT MALIK BIN HORAIS RZ FARMATE HAIN KE MAI NE IMAME AZAM SAW KO NAMAZ PADH TE HOWE DEKHA JAB BHI AAP APNI TAAQ(ODD) SE DOOSRI YA FORTH RAKAT KE LEYE NA UTH JAB TAK EK DAFA SEEDHA BAITH NA JATE(BUQARI,ABU DAWOOD,TIRMIZI

AUR YE KUFI ZALIMO NE YE AZEEM SUNNAT KO NA MARDON WALI CHEEZ KAH KAR ISKO AURTON KE LEYE MUQARIR KAR LIYA JAB KE MALIK BIN HORAIS RZ KI RIWAYAT KE MUTABIQ JALSE ISTARAHAT EK SUNNAT HAI AUR YE SUNNAT PUKAR PUKAR KAR KAH RAHI LOGON YE AZEEM SUNNAT KO NA SHORO MAGR FIQA KUFI ISKO MAANE TIYYAR NAHI AUR HADITH KI TAKKAR MAI YE LOG KAHTE HAIN KE "SAJDA KARNE KE BAAD APNE KHADMO PAR SEEDHA KHADA HO JAI AUR BHAITHE NA(JALSE ISTHARAT) NA KARE AUR MUQLIF SUNNAT JO IS MAZHAB KA MAQSAD HAI USKO POORA KARAI

kufion ka janaza badi dhoom

kufion ka janaza badi dhoom se nikle wah wah kamal ka ilm paya hai aap ne

MOHAMMADI BEE.TUM IMAME

MOHAMMADI BEE.TUM IMAME AAZAM KA NAAM LIKHKAR UNKUICH GALAT BOLREN.IMAAME AAZAM KO SAW NAIN BOLTE.IMAME AAZAM KO RAHMATULLA ALEH KEHTE HAIN.KIYA MIRZA BHAI MEN SAHEE BOLRON NA? PAIGHAMBARAON KO SAW BOLTE.

RAFA YADEN NA KARNE KI HADIS RAZVI SAHEB LIKHE USKE BARE MEN BE KUTCH BOLIYE.

RAVINDER KI BAAT MAT KARO

RAVINDER KI BAAT MAT KARO WOH KISI QABR KE GHILAF MAI CHUPA RAHA HAI AB TUM KISI AUR KI TALASH KARO ILIMI BAHES KE LEYE KYON RAVINDER BHAG GAYA WOH BHAGODA HAI

KUFI MUNKIRE HADITH NO.1

QAREENE SIASAT AAP LOG AB TAK KUFION KI NAMAZ MAI QIYAM MAI AUR SURAH FATEHA MAI KAISE YE LOG IMAME AZAM SAW KI MUQLIFAT KARTE HAIN AUR US KO SAHI SABIT KAR NE KE LEYE SAHA SATTA KO SHOR KAR KAM DAR JE KI HADITH PAISH KARTE HAIN KYON KE YE DUSHMANE RASOOL HAIN
JAB KOI BUQARI YA SAHI MUSLIM KI HADITH INKE IMAM KI TAIEED KARTI HAI TU YE FAURI WOH HADIT PAISH KAR DETE HAIN JAB KOI HADITH UNKE GHADE HOWE MAZHAB KE QILAF HO TU WOH KOI ZAIF YA MURTAD HADITH KA HAWALA LETE HAIN APNE JHOOTE MAZHAB KO SABIT KAR NE KE LEYE
IN GADHO SE KAHO KE YA TU WOH BUQARIK MUSLIM KA INKAR HI KARDE YA BUQARI MUSLIM KO UNKE DARJAI KE MUTABIQ PAHLE LAIN AUR USKE BAAD ZAIF AUR JHOTI LAIN

RUKO SE PAHLE RAFAI DAIN KARNA:HAZARAT ABDULLAH BIN UMAR RZ FARMATE HAIN MAI NE IMAME AZAM SAW KO DEKHA JAB AAP SAW NAMAZ KE LEYE KHADE HOWE TU AAP APNE DONO HATO KO KHANDON TAK BULAND KYA AUR USI TARAH AAP SAW NE JAB RUKO KE LEYE SAR UTHAYA TU APNE DONO HATH KHANDON TAK UTHAYA AUR AAP SAW NE IS TARAH SAJDON MAI NAHI KYA(BUQARI, MUSLIM,ABU DAWOOD,TIRMIZI,NASAI,IBNE MAJA,DARMI)

YE THI MOHAMADDI SAW NAMAZ AB AAP KUFION KE NAMAZ KA MULHAIZA FARMAI "TAKBEERE ULA KE ALAWA NAMAZ MAI RAFAI DIAN NA KARAIN(HIDAYA,MAUTA MOHAMAD)

KUFI DOSTON EK TARAF HAI FARMANE MOHAMMAD SAW AUR DOOSRI TARAF HAI ZILLAT YANI KUFA KA MAZHAB AB KIS KO IKHTIYAR KARO GE

EK AUR JAGAH KUFI LOG IMAME AZAM SAW KI MUQALIFAT KARTE HAIN AUR WOH HAIN RUKO MAI SUKOON IMAME AZAM SAW BUQARI SHARIF KE MUTABIQ RUKO, SUJOOD,QIYAM MAI BARABAR BARABAR KA WAQT DETE THE
HIDAYA MAI KITAB USSALAT MAI HAI KE RUKU SE SEEDHA KHADA HONA FARZ NAHI YANI KUFION KE PAAS JHAB JHAB JALI KI NAMAZ HAI BAGAIR DUA WALI NAMAZ KUFION KI NAMAZ SAARE KE SAARE KUFI NAMAZ KE SHORO MAI SIRF SANA KI DUA PADH TE HAI JAB KE ISKE ALAWA KAI DUA HADITH KI KITABON MAI MAUJOOD HAI LEKIN YE GUSTAQE RASOOL HAI AUR RAHAIN GE JAB TAK APNE KUFRIA AUR DUSHMANE RASOOL KO TARAK NA KARDAIN

Subjective ya Objective?

As salaam alaikum
1. Deen e Islaam fitri mazhab haye aur ahkamaat e ilahi swt aur sunnat e Rasool pbuh bahut hi saada aur aasaan alfaaz mein moujood hain aur har shaqs is ko ba-aasaani samajh sakta haye, kisi taweel ya interpretation ki zaroorat nahin haye.
2. Islaam mein jitnay bhi beleifs aur aqayed aur sharayi ehkamaaat hain un say mutaliq yehi haye kay aap manein, ya phir aap na manein......koi darmiyyani rasta nahin.....yanay seedhi baat yeh kay aap agar muslim nahin hain tuo phir ghair muslim hi hain.....beech ki koi raah nahin haye.
3. Fathe iran w rome kay baad jo saazishein aur jo ilm e kalaam islaam mein dakhil huwa....aur islaam per kayi kiitabein likhi gayein us ki wajah say deen e islaam mein objective tpe questions ki paidawaar shuroo huwi....aur ek hi sawaal kay chaar-paanch jawabaat aagaye.....takay EK SEEDHA SAADA MUSLIM CONFUSE RAHAY KAY IN CHAAR_PAANCH JAWABAAT MEIN SAY KOUNSA JAWAAB SAHIH HOGA....lazmi haye kay koi ek hi jawaab sahih ho sakta haye.....aur bilkul sahih jawab ek rational shaqs hi de sakta haye......warna yeh jawabaat bhi itnay peecheedah hotay hain kay in ko sikhanay waloun kay paas bhi us ka sahih jawaab nahin hota....ya phir ayesoun ko deen sikhanay kay liye oppoint kiya jaata haye jo jaan boojh kar kisi ghalath jawaab ko SAHIH batatay hain taka ummat e muslima confuse rahay aur hamesha aapas mein ghalath-sahih ka jhagda jaari rakhein....aur kabhi bhi koi faisla na kar sakein.
4. Jab Allah swt nay Islaam ko pasand farmaya haye aur mukammil deen kaha haye tuo yeh CONFUSING deen nahin hoga aur Rasool Allah pbuh kay aamaal aur tareeqaye hayaat mein CONSISTENCY zaroor rahi hogi......phir aaj yeh kiya baat haye....kay hum ek sawaal ka ek jawaab nahin de saktay........ek jamaat hadees ki roshni mein namaaz ka ek tareeqa sabit kar sakti haye tuo koi doosri jamaat bhi ahadees ki roshni mein namaaz ka koi doosra hi tareeqa sabt kar sakti haye.........EK AAM MUSALMAAN TUO CONFUSE HO JAYEGA.....kay kounsi jamaat ki namaaz bilkul sunnat kay mutabiq haye.....agar yeh aam musalmaan ek tarah say namaaz ada karta ho tuo doosri jamaat wala is ko ghalath batayega........MIRZA SAHAB is mouzoo per apna qalam chala kar meray is confusion ko door karein ...aur musalmanoun kay aagay jo dhokay aur deception kay parday paday huway hain un ko uthayein....jis tarah sufism aur qabar parasti ka postmortem kiya gaya aur kiya jaata haye bilkul isi tarah deen mein khalat-malat karnay waloun ko bhi aashkaar karna chahie.

Salaam Alekume famous sufi

Salaam Alekume

famous sufi hazrat Junaid Bughdadi Rahmatullah Aleh ke pas ek aurat ne akar kaha hazrat mera shauhar doosra nikah karna chahta hai.Junaid Bughdadi ra ne kaha agar uske nikaah men is waqt chaar aurten nahi hain tho woh nikaah karsakta hai.

aurat ne kaha hazrat mera chehra bahut haseen hai iske bawjood usko dosra nikaah karne ki zarorat hi nahi.

ye sunkar Junaid Bughdadi ra rone luge.rone ka sabab poochne per bataya mere zahen men iswaqt ye khayal aya k Allah swt farmata. agar duniya men kisi ko mujhe dekhna jayez hota tho mein apne jamal se hijab uthakar us per zahir hojata.ta k woh mujhe dekhta phir use malom hota k jis ka mujh jaisa Rub hoo oske dil men mujhe chodh kar kisi aur se mohabat honi chahiye?

Moral:Allah swt ko chodkar uske ghair se mohabat karna bahot badi nadani hai.Book Name:Nuzhatul Majalis Page No 11 Part 1.

Mirza Sahab ne sach kaha k ba yazeed Bustami ra ne aisa kaha tha per woh jazb ki soorat men kaha tha hosh men rehkar nahi.Mirza sahab ko shayad pata nahi k Ba yazeed Bustami ra ek bade Hadisdani the.aur aisa aalim insaan khud ko Allah nahi keh sakta.bilfarz kehde tho duniya khud samaj jati hai ke aise logao par jazab galib ajata hai & hosh men nahi rehte.aur majzub per Allah swt pabandi nahi lagata.

aur ek sahab ne meri tarif kardi.shayed Razvi sahab likhe hain tho unka bhi bohat bohat shukria ada karta hon.aur apki bat per amal karonga.duao ka bhi bohat shukria.aap ke articles bohat ghore se dilse padta hon men bhi.Allah hafiz.

Ghaur Talab Hai

Aap nay ghaur kiya Madani Saheb, kiya kaha gaya iss waqiye mein?..... Bazaher to aisa laga k Allah ki mohabbat ko dil mein utarna aur sirf ussi ki mohabat sachee mohabbat hai. ...Magar sath hi 'Aurat/Shadi/Jama'a se doori ki taleem di jarahi hai, hai na?....Aapka 'Moral' of the story dobara padh lein aap.... Jab kay Nikha karna Huzoor e Akram SAS ki sunnat hai. Aap ko yad hoga Madani Bhai k Huzoor(SAS) nay farmaya kay(uska mafoom) mein Shadiyan bhi karta hon, karobar bhi karta hon aur mien tum sab mein ziyad Allah se Darnay wala hon......kaha na?........Yahi mein kahena chahata hon, k, Mazhab e Tasawuf mein islami estelahat istemal hoti hein magar unkay manay, matlab aur Matloob alag hota hai aur jo ISLAM KI ZIDD HAI.

Re:Madani Saheb

Madni Saheb, Walekum assalam rb,

Aap ki tahreer mein kaha gaya kay 'jazab ghalib ata hai aur hosh nahi rehta' aur yeh bhi sahee farmaya k jisko hosh nahi raheta(iss behoshi k liye aapnay 'majzoob' lafz istemal kiya)Allah pabandi nahi lagata. Yani jo bhi iss behoshi ya pagalpun ya jazb ki halat mein kaha gaya, uska koi wazan nahi aur usko motaber nahi mana jasakta. Aur aap chahete hien kay jo bhi Janab Bayazeed Bastami Saheb nay kaha, jo mein nay tahreer kiya, usko nazar andaz kardien, qionkay Allah bhi usper pabandi nahi lagata. Aur yeh bhi sahee hai k koi Sharayee Pabandi bhi aisay 'behosh insaan' per nahi hogi. Yani jo kaha aur suna gaya, na usper Allah ki pakad hai aur na hi Shariyat e Mohammadia ki. Aap nay yahi farmaya na Madani Saheb? OK...

Abb aap yeh bataien kay jis bat ko Allah Rasool nay 'Ignore' kiya, jiski koi pakad hi nahi, usper amal kaisay kiya jasakta hai? NAHI HOGA NA?

1. Bayazeed Bastami kay khuda kahenay se "Wahdatul Wajood" ka falsafa oujood mien aya.
2. Har ekk Tasawuf per likhi janay wali kitab, Bastami ki inn sari kahawataon ko support karti hien jaisay:...
SUBHAI SUBNAHI MA AZAM SHANI.
MA FI JHUBBA SOI ALLAH (mere jubbhay mein Allah k siwa koi nahi)
MAIN KHUDA KI TALASH MEIN KABA KA TAWAF KARTA THA, JAB KHUDA SE VISAL HOVA TO DAIKHA KABA MERA TAWAF KARRAHA HAI.
ekk awaz per kahena..CHALEY JAO,GHAR MEIN KHUDA KAY SIVA KOI NAHI RAHETA.
ANI ANA LA ILAHA ILALLAH ANA FA'ABODOON(mein mein hon, mere siva koi mabood nahi, pus meri ibadat karo)
KHUDA SE ZIYADA SAQT PAKAD.
yeh kahena kay.....MEIN APNAY LA ILAHA ILALLAH KAHENAY PER TAUBA KARTA HON.

Madani Saheb, yeh jo mein nay tahreer kiya hai woh kisi nay bhola nahi aur na hi 'ignore' kiya kisi 'pagal ki bhud' samajh kar........balkay iss se Tasawuf ki poori filosopy khayam karli. Ismein istemal honay wali sari estelahat islami hein magar yeh sab Islam ki Zidd hein........aap nay sahe farmaya aur koi bhi muslim yahi kahega kay agar koi iss kisim ki bat karta hai to woh apni sahee damaghi halat mein nahi hoga.. ...uskay liye wajd, jazb aur aisay hi lafz istemal kiye jatay hein.

TO AAP UN AHBAB KO KIYA KAHO GAY JO AISI BATAON KO FOLLOW KARTAY HIEN, JO ISLAM KI ZIDD HEIN? JO TAUHEED PER ZARAB LAGATI HEIN? JO INN KUFRIYA KALEMATH KO APNAY AQEDA KI BUNYAD BANATAY HEIN?

Aap ki tahreer se laga k aap ekk sada loh ,Sunni Hanafi Muslim, hein, jo Islam per Mazhab e Tasawuf kay asrat se waqif nahi, kay kiss tarha Islam ki bunyadaon ko khokla kiya jaraha hai. Aap ko sunkar hayrat hogi Madni Bhai kay in Mazhab e Tasawuf ko manay walon ka Kalima hi alag hai. Kiya aap ko pata hai?............Inka Kalima "LA ILAHA ILLALLAH....."ki jagah.......LA MAUJOOd ILLALLAH hai.........kiya aap jantay hein kay INKA KALMA TAK ALAG HAI?

برکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ ہزاروں باطنی اور روحانی فیوض و برکات کے حامل تھے۔ جس کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے مَس کیا اُس کی حالت ہی بدل گئی۔ وہ ہاتھ کسی بیمار کو لگا تو نہ صرف یہ کہ وہ تندرست و شفایاب ہوگیا بلکہ اس خیر وبرکت کی تاثیر تادمِ آخر وہ اپنے قلب و روح میں محسوس کرتا رہا۔ کسی کے سینے کو یہ ہاتھ لگا تو اُسے علم و حکمت کے خزانوں سے مالا مال کر دیا۔ بکری کے خشک تھنوں میں اُس دستِ اقدس کی برکت اُتری تو وہ عمر بھر دودھ دیتی رہی۔ توشہ دان میں موجود گنتی کی چند کھجوروں کو اُن ہاتھوں نے مَس کیا تو اُس سے سالوں تک منوں کے حساب سے کھانے والوں نے کھجوریں کھائیں مگر پھر بھی اُس ذخیرہ میں کمی نہ آئی۔ بقول اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ :
ہاتھ جس سمت اُٹھایا غنی کر دیا
اُن ہاتھوں کی فیض رسانی سے تہی دست بے نوا گدا، دوجہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہوگئے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے اپنی زندگیوں میں بارہا ان مبارک ہاتھوں کی خیر و برکت کا مشاہدہ کیا۔ وہ خود بھی اُن سے فیض حاصل کرتے رہے اور دوسروں کو بھی فیض یاب کرتے رہے، اس حوالے سے متعدد روایات مروی ہیں :

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے۔
--------------------------------------------------------
1۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکروں میں سے ایک لشکر میں تھے، لوگ کفار کے مقابلے سے بھاگ نکلے اور ان بھاگنے والوں میں، میں بھی شامل تھا پھر جب پشیمان ہوئے تو سب نے واپس مدینہ جانے کا مشورہ کیا اور عزمِ مصمم کرلیا کہ اگلے جہاد میں ضرور شریک ہوں گے۔ وہاں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی تمنا کی کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کردیں۔ اگر ہماری توبہ قبول ہوگئی تو مدینہ میں ٹھہرجائیں گے ورنہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ پھر ہم نے بارگاہِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںآکر عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! ہم بھاگنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :
لا، بل أنتم العَکَّارون. قال : فدنونا فقبلنا يده، فقال : أنا فِئَة المسلمين.
’’نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ (یہ سن کر ہم خوش ہوگئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس کو بوسہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں(یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں، وہ میرے سوا اور کہاں جائیں گے)۔‘‘

ابوداؤد، السنن، 3 : 46، کتاب الجهاد، رقم : 2647
ابوداؤد، السنن، 4 : 356، کتاب الأدب، رقم : 5223
ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 215، ابواب الجهاد، رقم : 1716
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 70، رقم : 5384
بخاري، الأدب المفرد، 1 : 338، رقم : 972
قرطبي، الجامع لإحکام القرآن، 7 : 383
ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 295
ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 541، رقم : 33686
ابن موسي حنفي، معتصر المختصر، 1 : 213
حسيني، البيان والتعريف، 1 : 295، رقم : 786
مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 7 : 437
شوکاني، نيل الاوطار، 8 : 80
ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 145

2۔ امِّ ابان بنت وازع بن زارع اپنے دادا زارع بن عامر جو وفدِ عبدالقیس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے، سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا :
’’جب ہم مدینہ منورہ گئے تو اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے۔‘‘

ابوداؤد، السنن، 4 : 357، کتاب الأدب، رقم : 5225
بخاري، التاريخ الکبير، 4 : 447، رقم : 1493
طبراني، المعجم الکبير، 5 : 275، رقم : 5313
بيهقي، السنن الکبری، 7 : 102، رقم : 13365
بيهقي، شعب الايمان، 6 : 477، رقم : 8966
عسقلاني، فتح الباري، 8 : 85
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 57
مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 7 : 437
عسقلاني، تلخيص الحبير، 4 : 93، رقم : 1830
طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 133، رقم : 418
مزي، تهذيب الکمال، 9 : 266، رقم : 1946
زيلعي، نصب الراية، 4 : 258
عسقلاني، الدراية في تخريج احاديث الهداية، 2 : 232، رقم : 691
شيباني، الآحاد والمثاني، 3 : 304، رقم : 1684

"SAHRA MEIN NAKHLISTAN"

ASSALAMUALAIKUM WO RAHMATULLAHI WO BARKATAHU
RAZVI BHAI AAPKE MURASILE IS DAURE DAJJALIAT MEIN "SAHRA MEIN NAKHLISTAN" KA DARJA RAKHTE HAIN,JINKO PADHNE SE SAHI UL AQEEDA MUSAMANO KE IMAAN KI HARARAT BADH JAATI HAI--SHUKRIYA JAZAIK ALLAH-----ALLAH AAPKO AAPKE AFRAADE KHANDAAN KO SALAMAT RAKHE ----TA-ABAD ALLAH APNI RAHMATON NEMATON KA SAAYA AAP AUR AAPKI NASL PER QAYEM RAKHE (AMIN YA RABUL ALAMIN)
AAPKO AUR SOB QARAYEEN KO RAMDAN KAREEM MUBARAK, ALLAH HUM SOBKO IS RAMDAN MEIN SHABE QADER KI SA-ATEN NASEEB FARMAYE(AMIN YA RABUL ALAMIN)

Bhagne Wale

Masha Allah: Sharam Ki Bath Ashab Aur Bhagne Wale?
Sham! Shame!

Razvi Saheb jazakallahu

Razvi Saheb jazakallahu khair.Ramdan Mubarak qabool kariye.

رمضان المبارک کے روزوں کی فضیلت

اسلام و علیکم رحمۃ اللّٰہ و برکاتھ

قارین اکرام ماہ رمضان کی آمد ہوی جاتی ہے -اس مبارک ماہ میں ہمیں الله کی عبادات کا مکمل خیال رکھنا ہوگا -اپنی عبادتوں میں خشو و خضوع پیدا کرنا چاہیے - ذیل میں کچھ احادیث نماز و روزہ کی فضیلت کی ضمن میں ملاحضہ فرمایں-

فضیلتِ نماز کا بیان
-----------------------------------------------------------

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (شبِ معراج) اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں تو میں ان (نمازوں) کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر آپ کی امت کے لئے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا : اﷲ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پس انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا (میری درخواست پر) اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا۔ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس گیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا : اپنے رب کی طرف پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی طاقت نہیں ہے پس میں واپس گیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا۔ میں ان کی طرف آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی طاقت بھی نہیں ہے میں واپس لوٹا تو (اﷲ تعالیٰ نے) فرمایا : یہ ظاہراً پانچ (نمازیں) ہیں اور (ثواب کے اعتبار سے) پچاس (کے برابر) ہیں میرے نزدیک بات تبدیل نہیں ہوا کرتی۔ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف جائیے (اور مزید کمی کے لئے درخواست کریں) میں نے کہا : مجھے اب اپنے رب سے حیا آتی ہے۔ پھر (جبرائیل علیہ السلام) مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی پر پہنچے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا، نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں؟ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک ہے۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : کيف فرضت الصلوة في الإسراء، 1 / 136، الرقم : 342، وفيکتاب : الأنبياء، باب : ذکر إدريس وهو جد أبي نوح ويقال جد نوح عليهما السلام، 3 / 1217، الرقم : 3164، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الإسراء برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلي السماوات وفرض الصلوات، 1 / 148، الرقم : 163، والنسائي في السنن، کتاب : الصلاة، باب : فرض الصلاة، 1 / 221، الرقم : 449، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في فرض الصلوات الخمس والمحافظة عليها، 1 / 448، الرقم : 1399،

’’حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اپنے رب سے ڈرو، اپنی پانچوں نمازیں ادا کرتے رہو اور اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھا کرو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیا کرو اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو تو تم (اس کے صلہ میں) اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الجمعة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : منه (434)، 2 / 516، الرقم : 616، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 251، الرقم : 22215، 22312، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 12، والحاکم في المستدرک، 1 / 52، 547، الرقم : 19، 1436، وقال : هذا حديث صحيح وسائر رواته متفق عليهم، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 154، الرقم : 7664، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 5، الرقم : 7348، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 5 / 64، الرقم : 1687.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دن اور رات میں (فرائض کے علاوہ) بارہ رکعات سنتیں ادا کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں مکان بنائے گا (اُن سنتوں کی تفصیل یہ ہے) چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔‘‘

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء فيمن صلي في يوم وليلة ثنتي عشرة رکعة من السنة وماله فيه من الفضل، 2 / 274، الرقم : 415، ونحوه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : تفريع أبواب التطوع ورکعات السنة، 2 / 18، الرقم : 1251، والنسائي في السنن، کتاب : الإمامة، باب : الصلاة بعد الظهر، 2 / 119، الرقم : 873، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، 1 / 361، الرقم : 1140، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 51، الرقم : 5127، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 204، الرقم : 1188، والحاکم في المستدرک بإسنادين، 1 / 456، الرقم : 1173، وقال : کلا الإسنادين صحيحان.

رمضان المبارک کے روزوں کی فضیلت
---------------------------------------------------------

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ) جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان (زنجیروں میں) جکڑ دیئے جاتے ہیں۔‘‘

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : بدء الخلق، باب : صفة إبليس وجنوده، 3 / 1194، الرقم : 3103، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصيام، باب : فضل شهر رمضان، 2 / 758، الرقم : 1079، والنسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر الاختلاف علي الزهري فيه، 4 / 126، 128، الرقم : 2097، 2101، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 281، الرقم : 7768.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بنی آدم کا ہر عمل اسی کے لئے ہے سوائے روزہ کے۔ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ اور روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو نہ فحش کلامی کرے اور نہ جھگڑے اور اگر اسے (روزہ دار کو) کوئی گالی دے یا لڑے تو یہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ عزوجل کو مشک سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جن سے اسے فرحت ہوتی ہے : ایک (فرحتِ افطار) جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، اور دوسری (فرحتِ دیدار کہ) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے باعث خوش ہو گا۔‘‘

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصوم، باب : هل يقول إني صائم إذا شتم، 2 / 673، الرقم : 1805، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصيام، باب : فضل الصيام، 2 / 807، الرقم : 1151، والنسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکرالإختلاف علي أبي بن صالح في هذا الحديث، 4 / 2217، الرقم : 2213 - 2218، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 270، الرقم : 8094.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ريّان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن روزہ دار اس میں سے داخل ہوں گے اور اُن کے سوا اس دروازہ سے کوئی داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا : کہاں ہیں روزہ دار؟ پس وہ کھڑے ہوں گے، ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا، پھر کوئی اور اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔‘‘

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصوم، باب : الريان للصائمين، 2 / 671، الرقم : 1797، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصيام، باب : فضل الصيام، 2 / 808، الرقم : 1152، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 199، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 305، الرقم : 8294، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 192، الرقم : 5970.

’’حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی (ایسا) عمل بتائیں (جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزہ رکھو، اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔ میں نے (پھر) عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی (اور) عمل (بھی) بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزہ رکھو اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔‘‘

أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : في فضل الصائم، 4 / 165، الرقم : 2223، وفي السنن الکبري، 2 / 92، الرقم : 2533، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 248. 249، الرقم : 22194 - 22195، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 194، الرقم : 1893، وابن حبان في الصحيح، 8 / 213، الرقم : 3426، والحاکم في المستدرک، 1 / 582، الرقم : 1533، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 297، الرقم : 3587.

masha allah jazak allah

masha allah jazak allah khairan

ALLAH AAP KE ILM AUR BARKAT

ALLAH AAP KE ILM AUR BARKAT DE AMEEN

RAZVI MERA NAAM ISTEMAL KAR

RAZVI MERA NAAM ISTEMAL KAR KE APNI TAREEF APNE MOH KAR RAHA HAI NAMAK HARAM, BIDDATI
AISI GIRI HOWI HARKAT SIRF TUM QABR PRAST HI KAR SAK TE HO

arre pakaoo bolti kyun band

arre pakaoo bolti kyun band hogai teri? razvi bhai ko deklia kya?

Salaam Alekume. Ek nawjawan

Salaam Alekume.

Ek nawjawan sarangi(flute)baja raha tha.udhar se Ba Yazeed Bustami Rahmathullah Aleh guzar rahe the.aap ne use sarangi bajate huve dekha tho lahol padhi.us nawjawan ko gussa aagaya aur usne sarangi Ba Yazeed bustami ra ke sar per de maari.jis se sarangi toot gaye aur Ba Yazeed ra ka sar bhi phoot gaya.

Ba Yazeed ra khamoosh ghar agaye aur us nawjawan ko kuch paise aur mithai bheji.aur kaha ke paison se sarangi kharidlo aur mithai sarangi ke tutne se aap ko jo ranj huva uski qeemat samjho.

Nawjawan bahut sharminda huva aur daoda huva aakar Ba Yazeed Bustami ra se maafi manga bahot roya aur tawba keye .aur doosre log bhi tayeb huve.

Moral: Allah ke nek bandon ke Aqlaq bhi buland hote hain.aur wo burai ka badla bhi bhalai se dete hain.aur ye sab jhalak hai humare piyare Nabi saw ki piyari seerat ki.

Razvi sahab se request karta hon agar is men mistake hovi tho batana plz.

Jazakallah khair Madni

Jazakallah khair Madni Saheb.

Bayazeed Bastami(261 H / 875 E)

Aap nay 'ghalat admi' se sawal kiya, yeh wahi bayazeed bastami hein jinho nay 'Khudai se badkar Khuda' honay ka dawa kiya tha, pata hai aapko? .....aap aisay shaqs ko Muslim kaho gay ya Kafir ya Pagal?
Yeh ussi mazhab ko manay waley saheb hein jiss per sant kabeer aur sai baba chala kartay thay........Iss Mazhab e Tasawuf ki Estelahat aur Terminologies poori ki poori Islami hi hein magar iska manay aur matlab alag hai...........Mein aapko 'KHUDA SE BADKAR KHUDAI KA DAWA' paish karnay ka waqiya bata hon inhi Bastami Saheb ka, aap hi faisla karien kay inn muhtarum kay sath kiya kiya jaye....
Ekk shaqs nay Bastami saheb kay samnay 'Sura Al-Brooj ki Ayat 12' ki telawat ki "YAQINAN TERE RAB KI PAKAD BAHUT SAQT HAI" yeh sunkar Bayazeed nay kaha....MERI PAKAD USKI PAKAD SE ZIYADA SAQT HAI.(Mutaliya e Tasawuf, Markazi Maktabe Islami Publishers, New Delhi, Reprint 1998, page 416)

Byazeed aur dosre sufia nay LA ILAHA ILALLAH se Dawa e Kufr paish kiya hai, paish hai, Farmatay hein..TAUBATUL NAAS MIN ZONOBIHIM WA TAUBATI MIN QAWOLI LA ILAHA ILALLAH. tarjuma......Log Gunahon se tauba kartay hein aur mein apnay 'LA ILAHA ILLALLAH' kahenay per tauba karta hon... (ussi kitab se Page 417)

Inka woh mashoor e zamana qawol to suna hi hoga, jissay koi tasawuf ki kitab khali nahi......SUBHANI SUBHANI MA AZAM SHANI.....tarjuma...Buzrogi mery liye hai, Buzrogi mery liye hai, kiya hi azeem shan hai meri.(Shaik Fareed Attar, Tazkiratul Aulia, Bombay 1325 H, Page 102)

Kiya karo gay aisay shaqs ka bhai Madani? Ekk acha kaam... aur Imaan?? Kiya aap mother Teressa ko bhi Buzrug maan logay ekk wali kay taur per YA sai baba ko bhi wali kahenay lago gay........qionkay yeh kuch achhay kaam kartay hein ana?......Nahi......Imaan shart hai, Islam deen hona lazim. KIYA WOH SHAQS MUSLIM HOGA, jo apnay ko khuda se ziyada samjhay........jo La Ila ha Illaha kahena per tauba kare? jo apni Azmath aur Apni Shan ki bath kare Allah ko chordkar? kiya kahogay aisay bayazeed ko?

NASB KI KHARABI

AAP, APNA NASB ZARUR CHECK KARVALEN---- KYUNKE AAPKE QAOL AUR FAHEL MEIN KAAFI TZAAD HAI, JIN BUZRUGON KI TABLEEGH SE ISLAM AAJ 4 BILLION PLUS HOCHUKA TUM UNKO HI GAALI DETE HO, TUMHARI NAJDI TABLEEGH(FAREBKARI) TO AB 200 SAAL SE SHURU HUVI HAI! YANE JO 1200 SAAL MEIN TABLEEGH HUVI VO GHALAT THI???? ISKA MATLAB 200 SAAL SE SAHI ISLAM AAYA HAI----BAQI SOB GHALAT!-----ISILIYE AQAA(SAW) NE FARMAYA KE NAJD SE FASAD VO FITNA UTHEGA SHAITAN KE SEENG UGENGE

Wa Alaikum Assalaamu Wa

Wa Alaikum Assalaamu Wa Rahmathullahi WA Barkathuhu.

Madani Saheb Aap ka Naam hi Itna Piyara hai key Jitni bhi Baar dohralo Tabiyat men Suroor cha jaata hai.Moo men maano misri ghul jaati hai.Alhamdulillah Aapka Article Padha aur Bahut Baar Padha.ye kaisey Log they jo zakham khakar bhi Duaa hi detey they.

Meri kiya bisaat key main Aap key iss Article men koin nuqs nikaal sakun.naa mujhey itna ilm hai aur naa hi mujh men itni salahiyat hai.bus ek guzarish hai aap sey key please aap jo kuch bhi lkhen Aakhir men uss kitaab ka hawala zarur likhdiya karen.

iss sey kitaab ka naam maloum hojayega aur Qaum men kitaben padhney ka jazba bhi paida hoga aur phir sey shayed mukammil islaam men dakhil hojayen.warna Internet ki padhaye sirf waqt guzari tak hi mehdoud hoti hai.aur baad ko log bhoul jaatey hain.Allah Aap ka sada Nigehbaan rahey.Aapki har jayez tamannayen poori hon.Aameen Summa Aameen. Allah Hafiz

Rug e Tauheed ka Phadkna....(last week se)...Watch Out

(Reproduced to identify trap of Shaitan Mardood)

Jo bhi faqahi masla hai aur jo bhi amal uss fiqah ki roh se hota hai, us per ekk taweel bahes Quran aur Sunnat/Ahadees ki raushni mein hoti hai. Sari hadeeson, chahe oh hamare apkay liye 'Zayeef' hi qion na ho, zair e ghaur ati hai. Phir uss bahes kay nateejay mien honay walay amal ka faisla kiya jata hai. MISAAL............

Pani peenay kay taluq se ahadees hein kay 'Baith kar Pina' aur yeh sunnat bhi k 'Huzoor SAS nay khaday hokar bhi piya'.......aur hamare bhai kay mazmoon ki raushni mien to baith kar pani peenay wala bhi 'munkeer e hadees' aur khaday hokar pani peenay wala bhi 'munkeer e hadees'..... ABB BATAYYIEN KIYA KIYA JAYE?.........Issi liye jab faisla liya gaya kay pani ka baith kar peena mustaheb hai to ahadees ki 'roh'(true spirit) ko dekha gaya aur yeh jana gaya kay Allah kay Rasool SAS 'chahetay' hein kay pani baith kar pio, halankay Aap(SAS) nay khaday hokar bhi noosh farmaya .

Yahi hall Paishab karnay(urination) ka bhi hai.

Yeh Misalien sirf iss point ko elobrate karnay di gayee kay ham ko yeh pata rahe kay dono point of views zair e bahes rahe aur jo qavi mauqaf tha, usko follow kiya gaya. Issi liye 'Char Musallon ki jagah ekk nay li'.....aur aisay ghair zaroori firoee maslay, meri tarha, sirf wahi bhai nikaltay hein jin ki 'Rug e Tawhee' kutch ziyada hi phadakti rahti hai'

Abb agar mein apnay mutaliye aur ilim ki kami ki wajhe sirf issi hadees per ruk jaon kay 'khaday hokar paishab karna hai' aur lagon sab ko galian danay aur yeh kahenay kay jo bhi bait kar paishab karey woh 'munkir e hadees' hai. To aap meri jaheliyat per hasongay nahi? Kiya aapko mujh per rahem nahi aye ga?........aur uss waqt to yeh rahem ka jazba kuch ziyada hi hoga, jab ekk ba-ilim dost kah rah hai kay, mien iss guftago ko taruk kardon, qionkay mein sahee nahi hon......aur dosri taruf mein apni zidd mein(jaheliyat) harkas o nakas ko, baghair kisi matlab ya wajha kay, 'munkir e hadees' kahe jaon?

Irtedad kay maslay ka hall 'Ameen bil Jahel' ya 'Rafa e Deen' karnay ya na karnay mein nahi........balkay iss bat per hai kay ham mushterika taur per unn aqayed ka sadd e bab karen jo Islam ki bunyad Tawheed per zarab lagati hein, jaisay Mazhab e Tasawuf, Qabar Parasti ya Shaqsiyat Parasti.

Allah kahenay sunnay se ziyada amal ki taufeeq day. Ameen.

»
reply
Mirza bhai jahan tak faroyee
Submitted by Anonymous (not verified) on Sat, 07/30/2011 - 12:46.
Mirza bhai jahan tak faroyee masayel hain wahan hadis ke statement ko mane to ajar aur agar na manen to gunah bhi nahi lekin jahan complication ki baat ho haram vo halal ka masla ho to aisi surat mein kya kahte hain aap jaise ke talaq ka masla bukhari sharif ki ahadis ko bhi baz log nahi mante? To kya vo haram kaam nahi karrahe?

»
reply
I'm Incompetent
Submitted by Mirza (not verified) on Sun, 07/31/2011 - 06:44.
Itnay baday sawal ka jawab dainay ki na hi mujh mein himmat hai aur na hi mein qualified hon, I'm incompetent. Inn fiqahi masayal kay taluq se mera nuktaye nazar mein nay rakh diya. Ham sab yeh achchi tarha jantay hein kay sarey Imaam apnay waqt kay 'ICONS' rahey. Koi bhi yeh ghalati 'karhi nahi' sakta kay woh kisi aisay amal ko profess kare jo Huzoor e Akram SAS kay amal se sabit na ho. Mienay oper 'misalon' se bataya kay hum mien say har koi ekk dosrey ko"Munkir e Hadees" ka lebel laga sakta hai. Mujhay to hyrat horahi hai kay iss blog mien do teen ahbab chand aisay masayel per apni rai detay hein jinn per bath karnay kay woh 'ahel' hi nahi. Aur agar woh kuch kahein to sahee aur ghalat honay kay 50-50% chances hain......Mien sirf itna janta hon kay, mujhay yeh yaad rakhna hai, k har fiqha sahee hai, aur har amal sirf aur sirf Huzoor SAS ka amal hai.

Ekk point aap sab hazrat nay zaroor note kiya hoga........Inn masayel mein, aapko uljhanay waley sirf razi aur lanatien hein........warna kisi aur nay kutch kaha hi nahi...........WAJHA?.... REASON? Qabar parasti, Shaqsiyat Parasti aur Mazhab e Tasawuf kay 'khilaf' aur Islam ki binyad Tauheed ki 'muafiqat' mien jo koshish iss blog mein horahi hai usko 'Hijack/Sabotage' karlein. Takleef hoti hai k you are falling in this trap, please watch out.

Mirza Sahab Aap ne last men

Mirza Sahab Aap ne last men likha galat hai.in masayel men uljhane wale Mohammadi saheb hai.ye Razi lanten koun hai?mujhe is name se likhne wale ek bhi is forum men nazar nahi aye?

Koi Naam Nahi...

Bilkul sahee farmay aapnay.......aisa koi naam hi nahi.........yeh sirf ekk fikar hai jo Islam ki bunyad 'Tauheed' per zarab lagati hai.........lafz razi lanatein likhtay hovey aapnay capital 'R' ka istemal kiya hai, jo mienay nahi kiya, qionkay yeh naam hi nahi......yeh 'alfaz' Qabar Parastaon, Shaqsiyat Parastaon aur Mazhab e Tasawuf ko mannay walon ko zaher kartay hein...........aur meri darkhwast hai k aisay log jahan bhi dikhien, unko sahee karnay ki koshish karien plz, yeh hamare gumrah bhai hi hein....... after all we are the 'big brothers'... aur hamko yeh koshish karni hai kay unko bhi jahanum ki aag se bacha lein. Allah Ramadan ki barakat se ham sab ko behramand farmaye, including all razi lanatiens.

برکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اسلام و علیکم و رحمتللہ و برکاتھ

یہ حقیقت ہے کہ انبیاء و صالحین سے منسوب چیزیں بڑی با برکت اور فیض رساں ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار کو بطورِ تبرک محفوظ رکھنا اور ان سے برکت حاصل کرنا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معمول تھا۔ آج بھی اہلِ محبت ان تبرکاتِ مقدسہ کو حصولِ فیض و برکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان کی حرمت کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
کتبِ احادیث و سیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کروانے کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکت حاصل کرتے تھے، مثلاً وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کا اپنے اوپر مسح کرواتے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کو تبرکا ً مس کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے تبرک حاصل کرتے جس پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دست اقدس دھوتے اس دھوون سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچے ہوئے کھانے سے تبرک حاصل کرتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک اور لعابِ دہن مبارک سے تبرک حاصل کرتے، وہ موئے مبارک جو حجامت کے وقت اترتے، نیچے نہ گرنے دیتے تھے، مزید برآں ناخن مبارک سے، لباس مبارکِ سے، عصاء مبارک سے، انگوٹھی مبارک سے، بستر مبارک سے، چارپائی مبارک سے، چٹائی مبارک سے، الغرض ہر اس چیز سے تبرک حاصل کرتے جس کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اقدس سے کچھ نہ کچھ نسبت ہوتی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام اور تابعین عظام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر مبارک سے بھی تبرک حاصل کیا بلکہ جن مکانوں اور رہائش گاہوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکونت اختیار فرمائی، جن جگہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں ادا فرمائیں اور جن راستوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے ان کی گرد و غبار تک کو انہوں نے موجبِ برکت جانا۔ یہاں تک کہ صحابہ و تابعین کے ادوار کے بعد نسلاً بعد نسلاً ہر زمانے میں اکابر ائمہ و مشائخ اور علماء و محدثین کے علاوہ خلفاء و سلاطین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و تبرکات کو بڑے ادب و احترام سے محفوظ رکھتے چلے آئے ہیں اور خاص مواقع پر بڑے اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کو ان تبرکات کی زیارت کروائی جاتی تھی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِاستعمال متعدد چیزیں بطور تبرک موجود تھیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ان چیزوں سے حصولِ برکت کے لئے جس جذبۂ عقیدت و محبت کا اظہار اپنی زندگیوں میں کیا اس حوالے سے چند روایات درج ذیل ہیں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ ہزاروں باطنی اور روحانی فیوض و برکات کے حامل تھے۔ جس کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے مَس کیا اُس کی حالت ہی بدل گئی۔ وہ ہاتھ کسی بیمار کو لگا تو نہ صرف یہ کہ وہ تندرست و شفایاب ہوگیا بلکہ اس خیر وبرکت کی تاثیر تادمِ آخر وہ اپنے قلب و روح میں محسوس کرتا رہا۔ کسی کے سینے کو یہ ہاتھ لگا تو اُسے علم و حکمت کے خزانوں سے مالا مال کر دیا۔ بکری کے خشک تھنوں میں اُس دستِ اقدس کی برکت اُتری تو وہ عمر بھر دودھ دیتی رہی۔ توشہ دان میں موجود گنتی کی چند کھجوروں کو اُن ہاتھوں نے مَس کیا تو اُس سے سالوں تک منوں کے حساب سے کھانے والوں نے کھجوریں کھائیں مگر پھر بھی اُس ذخیرہ میں کمی نہ آئی۔ بقول اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ :
ہاتھ جس سمت اُٹھایا غنی کر دیا

اُن ہاتھوں کی فیض رسانی سے تہی دست بے نوا گدا، دوجہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہوگئے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے اپنی زندگیوں میں بارہا ان مبارک ہاتھوں کی خیر و برکت کا مشاہدہ کیا۔ وہ خود بھی اُن سے فیض حاصل کرتے رہے اور دوسروں کو بھی فیض یاب کرتے رہے، اس حوالے سے متعدد روایات مروی ہیں :

(1) دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ دوسروں کو فیض یاب کرتے رہے
-----------------------------------------------------------

حضرت ذیال بن عبید رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ ان کے والد نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے حق میں دعائے خیر کے لئے عرض کیا :

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹا! میرے پاس آؤ، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اُن کے سر پر رکھا اور فرمایا، اللہ تعالیٰ تجھے برکت عطا فرمائے۔‘‘
حضرت ذیال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ميں نے دیکھا کہ جب کسی شخص کے چہرے پر یا بکری کے تھنوں پر ورم ہو جاتا تو لوگ اسے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آتے اور وہ اپنے ہاتھ پر اپنا لعابِ دہن ڈال کر اپنے سر پر ملتے اور فرماتے بسم اﷲ علی اثرید رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر وہ ہاتھ ورم کی جگہ پر مل دیتے تو ورم فوراً اُتر جاتا۔
‘‘
ابن سعد، الطبقات الکبري، 7 : 72
احمد بن حنبل، المسند، 5 : 68
طبراني، المعجم الکبير، 4 : 6، رقم : 3477
طبراني، المعجم الاوسط، 3 : 191، رقم : 2896
هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 211
بخاري التاريخ الکبير، 3 : 37، رقم : 152
ابن حجر، الاصابه، 2 : 133

(2) دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے حضرت ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ کے بال عمر بھر سیاہ رہے۔
-----------------------------------------------------------

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ کے سر اور داڑھی پر اپنا دستِ اقدس پھیرا تو اُس کی برکت سے 100 سال سے زائد عمر پانے کے باوجود اُن کے سر اور داڑھی کا ایک بال بھی سفید نہ ہوا۔ اس آپ بیتی کے وہ خود راوی ہیں :
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میرے قریب ہو جاؤ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر اور داڑھی پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور دعا کی : الٰہی! اسے زینت بخش اور ان کے حسن و جمال کو گندم گوں کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ اُنہوں نے 100 سال سے زیادہ عمر پائی، لیکن ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید نہیں ہوئے، سیاہ رہے، ان کا چہرہ صاف اور روشن رہا اور تادم آخر ایک ذرہ بھر شکن بھی چہرہ پر نمودار نہ ہوئی۔‘‘
احمد بن حنبل، المسند، 5 : 77
عسقلاني، الاصابه، 4 : 599، رقم : 5763
مزي، تهذيب الکمال، 21 : 542، رقم : 4326

(3) دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے خشک تھنوں میں دودھ اُتر آیا۔
-----------------------------------------------------------

سفرِ ہجرت کے دوران جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا کے ہاں پہنچے اور اُن سے کھانے کے لئے گوشت یا کچھ کھجوریں خریدنا چاہیں تو ان کے پاس یہ دونوں چیزیں نہ تھیں۔ حضور ں کی نگاہ اُن کے خیمے میں کھڑی ایک کمزور دُبلی سوکھی ہوئی بکری پر پڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بکری یہاں کیوں ہے؟ حضرت اُمِ معبدنے جواب دیا : لاغر اور کمزور ہونے کی وجہ سے یہ ریوڑ سے پیچھے رہ گئی ہے اور یہ چل پھر بھی نہیں سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر اجازت ہو تو دودھ دوہ لوں؟ عرض کیا : دودھ تو یہ دیتی نہیں، اگر آپ دوہ سکتے ہیں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوھا، آگے روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے منگوا کر بسم اﷲ کہ کر اُس کے تھنوں پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور اُم معبد کے لئے ان کی بکریوں میں برکت کی دعا دی۔ اس بکری نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا دیں، کثرت سے دودھ دیا اور تابع فرمان ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا برتن طلب فرمایا جو سب لوگوں کو سیراب کر دے اور اُس میں دودھ دوہ کر بھر دیا، یہاں تک کہ اُس میں جھاگ آگئی۔ پھر اُمِ معبد رضی اللّٰہ عنہا کو پلایا، وہ سیر ہوگئیں تو اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے۔ سب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا، پھر دوسری بار دودھ دوہا۔ یہاں تک کہ وہی برتن پھر بھر دیا اور اُسے بطورِ نشان اُمِ معبد رضی اللّٰہ عنہا کے پاس چھوڑا اور اُسے اِسلام میں بیعت کیا، پھر سب وہاں سے چل دیئے۔‘‘

تھوڑی دیر بعد حضرت اُمِ معبد رضی اللّٰہ عنہا کا خاوند آیا، اُس نے دودھ دیکھا تو حیران ہوکر کہنے لگا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ حضرت اُمِ معبد رضی اللّٰہ عنہا نے جواباً آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ شریف اور سارا واقعہ بیان کیا، جس کا ذکر ہم متعلقہ مقام پر کر آئے ہیں۔ وہ بولا وہی تو قریش کے سردار ہیں جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ میں نے بھی قصد کرلیا ہے کہ اُن کی صحبت میں رہوں چنانچہ وہ دونوں میاں بیوی مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمان ہوگئے۔

حضرت اُمِ معبد رضی اللّٰہ عنہا قسم کھا کر بیان کرتی ہیں کہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیاتِ مبارکہ کے دس برس گزارے، پھر اڑھائی سالہ خلافتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دور گزرا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا۔ ان کے دورِ خلافت کے اواخر میں شدید قحط پڑا، یہاں تک کہ جانوروں کے لئے گھاس پھوس کا ایک تنکا بھی میسر نہ آتا۔ وہ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم! آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کے لمس کی برکت سے میری بکری اُس قحط سالی کے زمانے میں بھی صبح و شام اُسی طرح دودھ دیتی رہی۔

حاکم، المستدرک، 3 : 10، رقم : 4274
هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 56
شيباني، الآحاد و المثاني، 6 : 252، رقم : 3485
طبراني، المعجم الکبير، 4 : 49، رقم : 3605
هبة اﷲ، اعتقاد اهل السنة، 4 : 778
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 4 : 1959
عسقلاني، الاصابه، 8 : 306
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 230
ابو نعيم، دلائل النبوه، 1 : 60
طبري، الرياض النضره، 1 : 471

(4) دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لمس سے لکڑی تلوار بن گئی۔

غزوۂ بدر میں جب حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں ایک سوکھی لکڑی عطا کی جو اُن کے ہاتھوں میں آکر شمشیرِ آبدار بن گئی۔

’’جب وہ لکڑی اُن کے ہاتھ میں گئی تو وہ نہایت شاندار لمبی، چمکدار مضبوط تلوار بن گئی، تو اُنہوں نے اُسی کے ساتھ جہاد کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور وہ تلوار عون (یعنی مددگار) کے نام سے موسوم ہوئی۔‘‘
جنگِ اُحد میں حضرت عبداللہ بن جحش کی تلوار ٹوٹ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی۔
’’جب وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں گئی تو وہ (نہایت عمدہ) تلوار بن گئی۔‘‘

ابن هشام، السيرة النبويه، 3 : 185
بيهقي، الاعتقاد، 1 : 295
عسقلاني، فتح الباري، 11 : 411
ذهبي، سير اعلام النبلاء، 1 : 308
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 3 : 1080، رقم : 1837
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 188
نووي، تهذيب الاسماء، 1 : 310، رقم : 418
سيوطی، الخصائص الکبریٰ، 1 : 359
أزدی، الجامع، 11 : 279
ابن حجر، الاصابه، 4 : 36، رقم : 4586

5۔ دستِ اقدس کے لمسِ سے کھجور کی شاخ روشن ہو گئی
-----------------------------------------------------------

آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کے لمس کی برکت سے کھجور کی شاخ میں روشنی آگئی جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ایک اندھیری رات میں طوفانِ باد و باراں کے دوران دیر تک حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے رہے۔ جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی اور فرمایا :

’’اسے لے جاؤ! یہ تمہارے لئے دس ہاتھ تمہارے آگے اور دس ہاتھ تمہارے پیچھے روشنی کرے گی اور جب تم اپنے گھر میں داخل ہوگے تو تمہیں ایک سیاہ چیز نظر آئے گی پس تم اُسے اتنا مارنا کہ وہ نکل جائے کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے تو وہ شاخ ان کے لئے روشن ہو گئی یہاں تک کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور اندر جاتے ہی اُنہوں نے اُس سیاہ چیز کو پالیا اور اتنا مارا کہ وہ نکل گئی۔

قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفیٰ، 1 : 219
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 65، رقم : 11642
ابن خزيمه، صحيح، 3 : 81، رقم : 1660
طبراني، المعجم الکبير، 19 : 13، رقم : 19
هيثمي، مجمع الزوائد، 2 : 167
سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 29
مناوي، فيض القدير، 5 : 73

(6) توشہ دان میں کھجوروں کا ذخیرہ
-----------------------------------------------------------

بیہقی، ابو نعیم، ابن سعد، ابن عساکر اور زرقانی نے یہ واقعہ ابو منصور سے بطریق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیاہے کہ ایک جنگ میں سینکڑوں کی تعداد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم موجود تھے جن کے کھانے کے لئے کچھ نہ تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُس موقع پر میرے ہاتھ ایک توشہ دان (ڈبہ) لگا، جس میں کچھ کھجوریں تھیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استفسار پر میں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ کھجوریں ہیں۔ فرمایا : لے آؤ۔ میں وہ توشہ دان لے کر حاضر خدمت ہوگیا اور کھجوریں گنیں تو وہ کل اکیس نکلیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس اُس توشہ دان پر رکھا اور پھر فرمایا :

’’دس آدمیوں کو بلاؤ! میں نے بلایا۔ وہ آئے اور خوب سیر ہو کرچلے گئے۔ اسی طرح دس دس آدمی آتے اور سیرہو کر اٹھ جاتے یہاں تک کہ تمام لشکر نے کھجوریں کھائیں اور کچھ کھجوریں میرے پاس توشہ دان میں باقی رہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوہریرہ! جب تم اس توشہ دان سے کھجوریں نکالنا چاہو ہاتھ ڈال کر ان میں سے نکال لیا کرو، لیکن توشہ دان نہ انڈیلنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس سے کھجوریں کھاتا رہا اور پھر حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق و عثمان غنی رضی اللہ عنھم کے پورے عہد خلافت تک اس میں سے کھجوریں کھاتا رہا اور خرچ کرتا رہا۔ اور جب عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو جو کچھ میرے پاس تھا وہ چوری ہو گیا اور وہ توشہ دان بھی میرے گھر سے چوری ہوگیا۔ کیا تمہیں بتاؤں کہ میں نے اس میں سے کنتی کھجوریں کھائیں ہوں گی؟ تخمیناً دو سو وسق سے زیادہ میں نے کھائیں۔‘‘
یہ سب کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کی برکتوں کا نتیجہ تھا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُس توشہ دان سے منوں کے حساب سے کھجوریں نکالیں مگر پھر بھی تادمِ آخر وہ ختم نہ ہوئیں۔

ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة) 6 : 117
ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 685، ابواب المناقب، رقم : 3839
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 352
ابن حبان، الصحيح، 14 : 467، رقم : 6532
اسحاق بن راھويه، المسند، 1 : 75، رقم : 3
بيهقي، الخصاص الکبریٰ، 2 : 85
ذهبي، سير اعلام النبلاء، 2 : 631

(7) دستِ شفا سے ٹوٹی ہوئی پنڈلی جڑ گئی
-----------------------------------------------------------

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عتیک دشمنِرسول ابو رافع یہودی کو جہنم رسید کر کے واپس آرہے تھے کہ اُس کے مکان کے زینے سے گر گئے اور اُن کی پنڈلی ٹوٹ گئی۔ وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی ٹانگ کھولو۔ وہ بیان کرتے ہیں :

’’میں نے اپنا پاؤں پھیلا دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنا دستِ شفا پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ کرم کے پھیرتے ہی میرے پنڈلی ایسی درست ہوگئی کہ گویا کبھی وہ ٹوٹی ہی نہ تھی۔‘‘

بخاری، الصحيح 4 : 1483، کتاب المغازي، رقم : 3813
بيهقي، السنن الکبریٰ، 9 : 80
طبري، تاريخ الامم والملوک، 2 : 56
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 3 : 946
ابو نعيم، دلائل النبوه، 1 : 125، رقم : 134
ابن کثير، البدايه والنهايه، 4 : 139
ابن تيميه، الصارم المسلول، 2 : 294

(8) دستِ اقدس کی فیض رسانی
-----------------------------------------------------------
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کا گورنر تعینات کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ مقدمات کے فیصلے میں میری ناتجربہ کاری آڑے آئے گی۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا دستِ مبارک اُن کے سینے پر پھیرا جس کی برکت سے انہیں کبھی کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری نہ ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کی فیض رسانی کا حال آپ رضی اللہ عنہ یوں بیان کرتے ہیں :
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ کرم میرے سینے پر مارا اور دعا کی : اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت پر قائم رکھ اور اس کی زبان کو حق پر ثابت رکھ۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ (خدا کی قسم) اُس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلے کرنے میں ذرہ بھر غلطی کا شائبہ بھی مجھے نہیں ہوا۔
‘‘
ابن ماجه، السنن، 2 : 774، کتاب الاحکام، رقم : 2310
عبد بن حميد، المسند، 1 : 61، رقم : 94
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 337
احمد بن ابي بکر، مصباح الزجاجه، 3 : 42، رقم : 818
سيوطي، الخصائص الکبریٰ، 2 : 122

(9) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی قوت حافظہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

’’میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں آپ صلی اﷲ علیک وسلم سے بہت کچھ سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی چادر پھیلا؟ میں نے پھیلا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لپ بھر بھر کر اس میں ڈال دیئے اور فرمایا : اسے سینے سے لگا لے۔ میں نے ایسا ہی کیا، پس اس کے بعد میں کبھی کچھ نہیں بھولا۔‘‘

بخاري، الصحيح، 1 : 56، کتاب العلم، رقم : 119
مسلم، الصحيح، 4 : 1940، کتاب فضائل الصحابه، رقم : 2491
ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 684، ابواب المناقب، رقم : 3835
ابن حبان، الصحيح، 16 : 105، رقم : 7153
ابو يعلٰی، المسند، 11 : 88، رقم : 6219
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 329
ابن عبدالبر، الاستيعاب، 4 : 1771
عسقلاني، الاصابه، 7 : 436
ذهبي، تذکرة الحفاظ، 2 : 496
ذهبي، سير اعلام النبلاء، 12 : 174

(10) اہالیان مدینہ روزانہ دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکت حاصل کرتے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
----------------------------------------------------------

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو خدّامِ مدینہ پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے آتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔ بسا اوقات سرد موسم کی صبح یہ واقعہ ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ ان میں ڈبو دیتے۔
‘‘
مسلم، الصحيح، 4 : 1812، کتاب الفضائل، رقم : 2324
عبد بن حميد، المسند، 1 : 380، رقم : 1274
بيهقي، شعب الايمان، 2 : 154، رقم : 1429
نووي، شرح علي صحيح مسلم، 15 : 82
سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 171
مناوي، فيض القدير، 5 : 146

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کی خیر و برکت کی تاثیر کے حوالے سے یہ چند واقعات محض بطور نمونہ درج کئے ورنہ دستِ شفا کی معجز طرازیوں سے کتبِ احادیث و سیر بھری پڑی ہیں۔

Sahih Namaaz E Nabawi Ba Hawala Ahadees E Nabawi.

Assalaamu Alaikum Wa Rahmathullahi Wa Barkathuhu.

Ahle Sunnat Wa Al Jamat Ka Tariqa E Namaaz.Maslak E Ahnaaf key Mutabiq.Ahadees ki Daleel ki Raushni men.Qarayeen Hayaat baqui Rahi Tho Inshallah Agli Dafa Maslak E Shafia,Maslak E Malikia,Maslak E Hanabila ka Tariqa E Namaaz bhi Post karunga…..

Har Maslak ka Tariqa e Namaaz Ahadees sey Sabit hai….Hum Musalmaan kisi bhi Maslak ki Pairvi karlen Alhamdulillah Ahadees par Mukammil Amal hoga.

Charaun Imaam Mujaddid E Islaam guzrey hain.Aur Mujaddideen ka Hukum Manney ki Hidayet Quraan Aur Ahadees men Ba Kasrat sey maujoud hai….. Mujaddideen ki Ahmiyat aur unkey ijtehaad ki Fazeelat sabit shuda hai….Agar hum inkey Ijtehaad ko Qaboul karkey uspar Amal kartey hain tho Inshallah Humara har Amal Qabil E Qaboul hoga…Warna

jo log Mujaddideen ko nahi mantey aur apney taur par Ahadees ko samjhey baghair Amal kartey hain who apney har Amal key khud Zimmedaar hongey.Ghair muqallideen Ek Fitna hai jo Apni hi kahi huvi baat sey hutkar kisi aur ki Baat ko nahi maantey.chahey who Baat Quraan men ho ya Ahadees sey sabit ho.sabsey pehley ek Hadees Mulaheza Karen.

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد ہمیں نہایت فصیح و بلیغ وعظ فرمایا، جس سے آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے اور دل کانپنے لگے۔ ایک شخص نے کہا : یہ تو الوداع ہونے والے شخص کے وعظ جیسا (خطاب) ہے۔ یا رسول اﷲ! آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں پرہیزگاری اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ خبردار (شریعت کے خلاف) نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے لہٰذا تم میں سے جو یہ زمانہ پائے تو وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑے، تم لوگ (میری سنت کو) دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا (یعنی اس پر سختی سے کاربند رہنا)۔‘‘

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : العلم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع، 5 / 44، الرقم : 2676، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في لزوم السنة، 4 / 200، الرقم : 4607، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين، 1 / 15، الرقم : 42، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 126، وابن حبان في الصحيح، 1 / 178، الرقم : 5، والحاکم في المستدرک، 1 / 174، الرقم : 329، وقال : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ لَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 246، الرقم : 618.

اِمامت کرانے اور بلند آواز سے تسمیہ نہ پڑھنے کا بیان
--------------------------------------------------

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے تو خراش آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، پھر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب سر اٹھائے تو سر اٹھاؤ اور جب وہ (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إيجاب التکبير وافتتاح الصلاة، 1 : 257، الرقم : 700، وفي کتاب : الجمعة، باب : صلاة القاعد، 1 / 375، الرقم : 1063، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : ائتمام المأموم بالإمام، 1 / 308،

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ نمازی حالت نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔ ابوحازم نے فرمایا کہ مجھے تو یہی معلوم ہے کہ حضرت سہل اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : وضع اليمني علي اليسري في الصلوة، 1 / 259، الرقم : 707 ومالک في الموطأ، 1 / 159، الرقم : 376، وأبو عوانة في المسند، 1 / 429، الرقم : 1597، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 140، الرقم : 5772.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھم کی اقتداء میں نماز پڑھی، مگر میں نے ان میں سے کسی کو (بسم اﷲ الرحمن الرحیم) پڑھتے نہ سنا۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : حجة من قال لا يجهر بالبسملة، 1 / 299، الرقم : 399، والنسائي في السنن، کتاب : الافتتاح، باب : ترک الجهر ببسم اﷲ الرحمن الرحيم، 2 / 99، الرقم : 907، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 315، الرقم : 979، وابن حبان في الصحيح، 5 / 103، الرقم : 1799، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 249، 250، الرقم : 495 - 497، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 176، 275، 278، وابن أبي شيبة في المصنف 1 / 360، الرقم : 4144

تکبیرِ اُولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان

’’حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے، وہ جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تم میں سے میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 272، الرقم : 752، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : اثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم : 392، والنسائي في السنن، کتاب : التطبيق، باب : التکبير للنهوض، 2 / 235، الرقم : 1155، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 236، الرقم : 7219، ومالک في الموطأ، 1 / 76، الرقم : 166، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 221.

’’حضرت مطرف بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب سر اٹھایا تو تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو تکبیر کہی۔ جب نماز مکمل ہو گئی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے (یا فرمایا : ) انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إتمام التکبير في السجود، 1 / 272، الرقم : 753، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 295، الرقم : 393، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 444.

’’حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے جب کہ رکوع سے اپنی پشت مبارک کو سیدھا کرتے پھر سیدھے کھڑے ہوکر (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جھکتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ پوری ہوجاتی اور جب دو رکعتوں کے آخر میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : التکبير إذا قام من السجود، 1 / 272، الرقم : 756، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم : 392.

’’حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ راوی کہتے ہیں : پھر اُنہوں نے نماز پڑھائی اور ایک مرتبہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘ امام نسائی کی بیان کردہ روایت میں ہے : ’’پھر انہوں نے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : التطبيق، باب : من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم : 748، والترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : رفع اليدين عند الرکوع، 1 / 297، الرقم : 257، والنسائي في السنن، کتاب : الافتتاح، باب : ترک ذلک، 2 / 131، الرقم : 1026، وفي السنن الکبري، 1 / 221، 351، الرقم : 645، 1099، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 388، 441، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم : 2441.

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، یہ سب حضرات صرف نماز کے شروع میں ہی اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے۔‘‘

أخرجه الدارقطني في السنن، 1 / 295، وأبويعلي في المسند، 8 / 453، الرقم : 5039، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 79، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 101.

اِمام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کا بیان
-------------------------------------

’’حضرت ابونعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنھما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو گویا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في ترک القراءة خلف الإمام إذا جهر الإمام بالقراءة، 1 / 346، 347، الرقم : 312، 313، ومالک في الموطأ، کتاب : الصلاة، باب : ما جاء في القرآن، 1 / 84، الرقم : 187، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 121، الرقم : 2745، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 317، الرقم : 3621، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 160، الرقم : 2725، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 282، الرقم : 1265.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم لوگ بھی اﷲ اکبر کہو، اور جب قراءت کرے تو چپ رہو۔‘‘

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 458، الرقم : 846، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : الإمام يصلي من قعود، 1 / 237، الرقم : 604، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 320، الرقم : 993، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 376، 420، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 331، الرقم : 3799، 2 / 115، الرقم : 7137، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 281، الرقم : 1257.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو۔‘‘

أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الافتتاح، باب : تأويل قولهل : وإذا قريء القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلکم ترحمون، 2 / 141، الرقم : 921.

’’حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے، اور ہمارے مشائخ نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُس شخص کی نماز ہی نہیں جو امام کی اقتداء میں قراءت کرے اور حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔‘‘

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 139، الرقم : 2810، والإمام محمد في الموطأ، باب : القراءة في الصلوة خلف الإمام، 1 / 98.

بلند آواز سے آمین نہ کہنے کا بیان
------------------------------------

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اِمام (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم کہو : آمین۔ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوگیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : جهر المأموم بالتأمين، 1 / 271، الرقم : 749، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : التسميع والتحميد والتأمين، 1 / 307، الرقم : 410، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : التأمين وراء الإمام، 1 / 354، الرقم : 935، والنسائي في السنن، کتاب : الافتتاح، باب : جهر الإمام بآمين، وباب : الأمر بالتأمين خلف الإمام، 2 / 105، الرقم : 927، 929، وابن حبان في الصحيح، 5 / 106، الرقم : 1804، والحاکم في المستدرک، 1 / 340، الرقم : 797.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ امام پر سبقت نہ کرو، جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ (وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم آمین کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو۔‘‘

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : النهي عن مبادرة الإمام بالتکير وغيره، 1 / 310، الرقم : 415، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 34، الرقم : 1576، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 92، الرقم : 2424.

’’حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) پڑھا تو کہا : آمین۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آمین کی آواز کو پست کیا۔‘‘
وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في التأمين، 1 / 289، الرقم : 248، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 316، والحاکم في المستدرک، 2 / 253، الرقم : 2913، والطيالسي في المسند : 138، الرقم : 1024.

’’حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : پانچ چیزوں میں اِخفاء کیا جائے گا : ثناء (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ) ، تعوذ (أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ) ، تسمیہ (بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تامین (آمین) اور تحمید (اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ).‘‘

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 87، الرقم : 2597.

’’حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اﷲ عنہما تسمیہ (بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تعوذ (أَعُوذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ) اور تامین (آمین) بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔‘‘

أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 263، الرقم : 1173.

Allah Hum Sab Musalmanaun ko Namaaz Ba Jamaat Qayem karney ki Taufiq Athaa Farmaye.Namaaz ko Sahih Waqt par Adaa karney waala Banaye.G M Ds key Fitnaun sey Mehfouz rakhey.Humko Aur Humari Aaney Waali Naslaun ko inkey Sharr aur inkey muballigheen sey mehfouz rakhey.Humain inki Sohbat sey bhi mehfouz rakhey. Apney Habeeb Sallallahu Alaihi wa Sallim key Sadqey Tufail humari Ebadataun,Duaon ko Qaboul farmaye….Aameen Summa Aameen.

SOBHANALLAH.RAZVI SAHEB

SOBHANALLAH.RAZVI SAHEB AAMIN BILJAHER NAIN BOLNA HAI TO YE MOHAMMADI SAHEB GALAT SALAT LIKREN KAIKO?MEIN TAQLID NAIN SHORONGA.AAP KA SHOKRIA MERE KO BHATAKNE SE BACHA DIYE.

KUFI MUNKIRE HADITH NO.1

PICHLE KAI DINO SE KUFION KA OPEERATION JARAI HAI AUR YE ITNA LAMABA HAI NA JANE KAB KHATAM HOGA KOI EK KOFION IKTELAF HOTA TU KOI BAAT NA THI LEKIN YAHAN TU KOFION KA HAR AMAL IMAME AZAM SAW SE TAKRAO HAI

LAST WEEK MAI NE MUQATDION KA AMEEN NA KAHNA LIKHA THA AB AAP UNKE IMAMON KA AMEEN NA KAHNA MULAIZA KI JAI ASAL MAI YAHI IMAMS HAI JO NAGAR NAGAR DAGAR DAGAR PHIR KAR PAHAIL KAR KUFI MAZHAB KI BUNYAAD KO PUKHTA KAR RAHE HAIN YE SUB SE BADE MUJRIM HAI JO AAM AADMI KO GUMRAH KAR RAHE HAI

IMAME AZAM SAW NE FARMAYA JAB IMAM AMEEN KAHE TU TUM BHI AMEEN KAHO PAS BESHAK JIS KI AMEEN FARISHTON KI AMEEN SE MOUFIQ H GAI TU USKE GUZISHTA TAMAM GUNAH MAAF KAR DIYAI JAIN GE(BUQARI,MUSLIM,ABU DAWOOD,TIRMIZI,NASAI,IBN MAJA
YE HADITH SAHA SATTA KI HAR KITAB MAI MAUJOOD HAI LEKIN KOFION NE IS HADITH KA BHI INKAR KYA AUR IMAM KO MUQTADION KO AMIN KAHNE SE ROOK DIYA AUR ITNE BADE AJAR SE MAHROOM KAR DIYA IS KI FAZILAT YE HAI KE JIS NE AMEEN KAH USKE PICHLE TAMAM GUNAH MAAF KAR DIYE JATE HAI AUR KUFION AISE AZEEM AMAL SE TAQLID KI LANAT KI WAJAH KAI IMAME AZAM SAW KI UMMAT KO MAHROOM KAR DIYA
AB MERA KUFION SE YE SAWAL HAI KE KYA FARMANE IMAME AZAM SAW PAR AMAL KARO GE YA IMAME AZAM SAW KI SUNNAT SE MOO PHAIR KAR FIQA KE LA YANI AUR BE DALEEL AMAL KO APNAO GE
RAI HAMARI FAISLA TUMARA AKHIR QIYAMAT MAI TUM JAWAB DAAR HO MUNKIRE HADITH KE

MOHAMMADI BEE.UPPER RAZVI

MOHAMMADI BEE.UPPER RAZVI SAHEB KE JESA COMPLETE HADISAN LIKOAGAR DUM HAI TO.TUM JHOOT SAHIH MILAKAR LIK KAR MUSALMANO KO BHATKARE KAIKO?

itne saaf aur seedha hadith

itne saaf aur seedha hadith hawale ke sath hone ke bawajood tum kah rahe ho ke complete hadith likho aare gadhe ye complete hadith chahe kuch bhi likho tum nahi mane ge kyon tum munkire hadith the aur munkire hadith raho ge is leye dunya tum par thook ti hai aur dhudkar ti hai

ITTA KAIKO BHADAKRA

ITTA KAIKO BHADAKRA BE?HADISAN KAISA LIKTE SO NAIN MALOM TEREKO?COMPLETE HADISAAN LIKHE TO TAQLID SHORDONGA BOLANA.TO NAIN LIKHA TO RAZVI SAHAB LIKHE FIR MAIN TAQLID NAIN SHORONGA BOLA.ACHA LIKHE HADISAN RAZVI SAHAB THANKS.

ABE DUNIYA TERE PE THOKRI DEKHLE JHOTE SACHE BATAN MILA KE LIKHRA THA JABSE

Naaf ke Neeche Haath Bandna

MUSSANIF ABNE SHEBA JO BEIRUT SE PRINT HOWE AUR DAIRATUL MARIFAT (DECCAN HYDERABAD O. U CAMPUS) SE JO PRINT HOWE US ME NAAF KE NEECHE WALE HURF NAHIN HAIN KARRACHI SE JO MUSSNAD IBNE SHEBBA PRINT HOWE US ME KOOFEYON NE HADDEES ME TAHREEF KARDALE APNE MAZHAB KI DIFA KI KHATIR. TAHTAS SEERA LA LAFZ IZAFA KARDALA.

JAAL HAQ (JILD 2 PAGE 15) PER LIKHA HAI TEEN CHEEZEN NABUWAT KE AADAT ME SE HAI 1)IFTAR ME JALDI KARNA 2) SAHER ME DEER SE KAHNA 3) DEHNA HAATH BAYEN HAATH PER RAKH KAR NAAF KE NEECHE BANDNA.

NAAF KE NEECHE WALE HURF IS HADEES ME NAHIN HAI DEKHYE MUSSANIF IBNE SHEBBA JILD 1 PAGE 3, BEHQI JILD 4 PAGE 238.

SAHI IBNUL QAZIMA ME SAHEE HADEEES HAI" WAWAZAYADAULYUMNA ALA YDAEL YUSRA ALA SADRI. YANE NABI APNA DAHNA HAATH BAYEN HAATH PER RAAKH KAR SEENE PER BAAND TE THE.

AURAT AUR MARD KE NAMAZ ME FARQ WOHI HAI JIS KO NABI ALI SALAM NE FARQ BATAYA, JAISE AURAT PER DOOPATTA LAZIM , AURAT THALE BAJAKE LOQMA DEGE, MARD LOQMA BIL AWAZ DEGA.ETC ETC.

KOOFEON NE GARD LEYE KE AURAT SEENE PER AUR MARD NAAF KE NECHE HAATH BANDE.
AGAR KOI DALEEL HAI TO PEECH KARO KE AURAT SEENE PER AUR MARD NAAF KE NEECHE HAATH BANDHE. MARD KE SHEWAT NAAF KE NEECHE AURAT KE SHEWAT SEENE PER INKI FUQAHAT KAHTE HAI.

EK BHAI HAMESE WAJIB, FARZ, SUNNAT KI DALEEL MANGTAHAI.
SHAH WALI ULLAH MUHADDIS AL INSAAAF ME FARMATE HAIN SAHABA RZ ITNE MUTTABE THE KE KABHI NABI SE SAWAL NAHIN KIYA KE AAP KA YE AMAL WAJIB HAI, MUSTAHAB HAI, SUNNATE MUEQADA HAI ETC ETC.JAISA NABI KO DEEKHTE WAISA HI KARTE.
HUM BHI SAHABA KI TARHA WAJIB, MAKROO BAKROO KE SAWAL NAHIN KARTE. NA HI USKA JAWAB DETE.

NABI NE FARMAYA NAMAZ AYSE PADO JAISE MUJHE PARDTE HOWE DEEKHTE HOO

YE MAKROO BAKROO TUMHARI EJAAAD HAI, ISLAM ME SIRF HALALL AUR HARAAM HAI.

Post new comment

To combat spam, please enter the code in the image.

Rs. 26250 (Per 10g)
Your Vote!
Do you think introduction of grills to separate ladies and gents in RTC buses add to travel woes?
YesNoCan't say
Matrimony | Photos | Videos | Search | Polls | Archives | Advertise | Letters

© The Siasat Daily, 2012. All rights reserved.
Jawaharlal Nehru Road, Abids, Hyderabad - 500001, AP, India
Tel: +91-40-24744180, Fax: +91-40-24603188
contact@siasat.com